چین کے شہر شینزن کی عدالت نے رئیل اسٹیٹ کی بڑی کمپنی ‘چائنا ایور گرینڈ گروپ’ کے بانی اور سابق صدر ہوئی کا یان (شو جیاین) کو عمر قید کی سزا سنا دی ہے۔ عدالت نے کمپنی کو 8.82 ارب یوآن (تقریباً 1.31 ارب امریکی ڈالرز) کا جرمانہ عائد کیا ہے، جبکہ ان کی تمام ذاتی جائیداد ضبط کرنے کا باقاعدہ حکم دیا گیا ہے۔
مالیاتی الزامات اور اعترافِ جرم:
کسی زمانے میں ایشیا کے امیر ترین شخص رہنے والے ہوئی کا یان نے اپریل 2026 میں فنڈز کے غلط استعمال، فنڈ رائزنگ فراڈ، عوام سے غیر قانونی طور پر رقوم کی وصولی، سیکیورٹیز کے لیے دھوکہ دہی اور رشوت ستانی سمیت 8 سنگین الزامات میں عدالت کے سامنے اپنا جرم قبول کیا تھا۔ چینی انتظامیہ نے کمپنی کے دیوالیہ ہونے کے بعد تحقیقات کے دوران انہیں حراست میں لیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: چین اور بھارت کی سرحد پر جھڑپیں، چینی فوج کے بھارتی علاقے میں خیمے نصب
کمپنی کے دیگر عہدیداروں اور ملازمین کو سزائیں:
عدالت نے اس کیس میں مجموعی طور پر کمپنی سے جڑے 56 افراد کو سزائیں سنائی ہیں۔ ایور گرینڈ کے 5 اعلیٰ ترین عہدیداروں کو 6 سے 18 سال تک قید اور بھاری جرمانوں کی سزائیں دی گئی ہیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ کمپنی اور اس کے بانی کی مجرمانہ کارروائیوں سے چینی معیشت کو زبردست مالی خسارہ ہوا اور معاشرے پر شدید منفی اثرات مرتب ہوئے۔



