دھرنے والےخود کو قانون کے حوالے کریں،نئی حکومت مسئلہ حل کرے گی،رانا ثناء اللہ

اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل)وفاقی وزیر برائے امور کشمیر، گلگت بلتستان و سیفران انجینئر امیر مقام اور وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ خان نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر کے عوام نے انتخابی عمل میں بھرپور شرکت کرکے اپنا جمہوری حق استعمال کیا ہے۔۔

مسلم لیگ (ن) پر اعتماد کا اظہار کیا ہے،مسلم لیگ (ن) کو دو تہائی اکثریت مل رہی ہے اور انتخابی مرحلہ مکمل ہونے کے بعد حکومت سازی کا عمل شروع ہوگاجس کے بعد آزاد کشمیر میں تعمیر و ترقی کا نیا دور شروع ہوگا۔

پیپلز پارٹی کی جانب سے دھاندلی کے الزامات کا کوئی ٹھوس ثبوت سامنے نہیں آیا، باغ اور حویلی میں پولنگ پرامن انداز میں جاری ہے، بعض پولنگ اسٹیشنز پرمعمولی نوعیت کے واقعات کے باوجود سکیورٹی اہلکاروں نےفوری کارروائی کرکے انتخابی عمل بحال کرایا۔

انہوں نے کہا کہ راولاکوٹ اور سدھنوتی میں دھرنوں کے باعث ان حلقوں میں ضمنی انتخابات ہوں گے،سیاسی جماعتوں کو اپنی خامیوں اور کمزوریوں کو دور کرنا چاہیے۔

آزاد جموں و کشمیر کونسل اسلام آبادمیں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے امور کشمیر، گلگت بلتستان و سیفران انجینئر امیر مقام نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر کے عوام نے مسلم لیگ (ن) پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

پیپلز پارٹی صبح سے ہی دھاندلی کا شور مچا رہی ہے،عوام نے ان کے وعدوں اور کارکردگی پر یقین نہیں کیا، انہیں اپنی خامیوں اور کمزوریوں کو دور کرنا چاہیے۔

وفاقی وزیر نے آزاد کشمیر کے عوام کا اپنی اور پارٹی کی جانب سے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری عوام نے مسلم لیگ (ن) پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:آزادکشمیر: موسم گرما کی تعطیلات میں مزید 4 روز توسیع کا اعلان

انہوں نے کہا کہ یہاں وہی بات ہے کہ ’’چور مچائے شور‘‘، صبح نو بجے سے پیپلز پارٹی کی جانب سے یہ کہا جا رہا ہے کہ دھاندلی ہو رہی ہے۔ حویلی کا جلسہ سب نے دیکھ لیا، پولنگ سے پہلے ہی جلسے سے اندازہ لگایا جا سکتا تھا کہ لوگ کس طرف جا رہے ہیں۔امیر مقام نے کہا کہ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ پنجاب سے پولیس آئی ہے، لیکن پی پی پی کو یہ سمجھنا چاہیے کہ سندھ پولیس بھی آ ئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ صبح سے ہی شور مچایا جا رہا ہے کہ دھاندلی ہو رہی ہے، جبکہ آزاد کشمیر میں لوگوں کا اتنی بڑی تعداد میں ووٹ کے لیے نکلنا ریاست کی کامیابی ہے۔ یہ رونا دھونا کہ ہمیں ووٹ کیوں نہیں دیا، عوام کی مرضی ہے۔ عوام کو آپ کے وعدوں اور کارکردگی پر یقین نہیں آیا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو اپنی خامیوں اور کمزوریوں کو دور کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے الزام لگایا تھا کہ صدر کو سکیورٹی فراہم نہیں کی گئی، حالانکہ آزاد کشمیر میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے اور صدر کے ساتھ ان کی اپنی سکیورٹی پہلے سے ہی تعینات تھی۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ ان شاء اللہ انتخابی عمل کے اس مرحلے میں کامیابی حاصل ہوگی۔دھرنا دینے والوں سے مخاطب ہوتے ہوئے امیر مقام نے کہا کہ ان کی وجہ سے وہاں کے نمائندے اسمبلی سے باہر ہیں۔ ہم دوبارہ مذاکرات کیلئے بیٹھنے کو تیار ہیں۔ ملکی مفاد میں ہم سب ایک ہی کشتی کے سوار ہیں۔

وزیر اعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے کہا کہ آزاد کشمیر اور وفاقی حکومت نے مناسب سمجھا کہ دھرنا دینے والوں کو وقت دیا جائے،دھرنے والوں کو چاہیے کہ احتجاج ختم کریں تاکہ باقی نشستوں پر بھی انتخابات کا عمل مکمل ہو سکے۔

منتخب حکومت جائز مطالبات پر عمل کرے گی اور جمہوری انداز میں معاملات حل کرے گی۔انہوں نے کہا کہ جن عناصر نے ہتھیار اٹھائے اور آزاد کشمیر کے عوام کو ورغلانے کی کوشش کی انہیں قانون کا سامنا کرنا ہوگا، دشمن کے ہاتھوں میں کھیلنے والوں کو حساب دینا ہوگا۔

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ حویلی اور باغ میں پرامن طریقے سے پولنگ جاری ہےتاہم حویلی کے ایک پولنگ اسٹیشن پر کچھ واقعات پیش آئے جس کے بعد فوری طور پر اہلکار موقع پر پہنچے اور پولنگ کا عمل دوبارہ شروع کرایا گیا۔

باغ کے ایک پولنگ اسٹیشن پر بھی پولنگ روکنے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مبینہ طور پر پیپلز پارٹی کے امیدوار ضیاء قمر پولنگ کا عمل روکنے میں ملوث تھے۔

انہوں نے بتایا کہ نارہ کوٹ میں ایک شخص کو ہارٹ اٹیک ہوا جس کے باعث اس کی موت واقع ہوگئی اس کے علاوہ کوئی بڑا واقعہ رپورٹ نہیں ہوا اور فورسز اپنی ذمہ داریاں بہترین انداز میں انجام دے رہی ہیں۔

مشیروزیراعظم نے الزام عائد کیا کہ پیپلز پارٹی نے آج بھی دھاندلی کی کوشش جاری رکھی ہوئی ہے اور ’’ہلکی آنچ پر دھاندلی‘‘ کا شور شروع کیا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کسی جگہ بھی دھاندلی کا ثبوت نہیں دے سکی۔ جہاں ان کا امیدوار جیت جائے وہاں سب ٹھیک قرار دیا جاتا ہے اور جہاں دوسرا امیدوار کامیاب ہو وہاں دھاندلی کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:حج 2027 کا پورا عمل ڈیجیٹلائز، 4 لاکھ عازمین گھر بیٹھے درخواست اور ادائیگی کر سکیں گے: سردار محمد یوسف

انہوں نے کہا کہ شیری رحمان رکن قومی اسمبلی بھی آہستہ آہستہ دھاندلی کے بیانیے کو آگے بڑھا رہی ہیں جبکہ بلاول بھٹو زرداری نے بھی کہا کہ ان کے رکن قومی اسمبلی کو فائرنگ سے زخمی کیا گیا۔

میڈیا کو یہ پوچھنا چاہیے کہ جس کارکن کے جاں بحق ہونے کا دعویٰ کیا گیا، اس کی ایف آئی آر کہاں ہے۔انہوں نے کہا کہ جس حلقے سے دھاندلی کا شور مچایا جا رہا تھا، وہاں سے پیپلز پارٹی کا امیدوار 1200 ووٹوں سے کامیاب ہوا۔

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ آزاد کشمیر میں برادری سسٹم بہت مضبوط ہےاسی وجہ سے بعض علاقوں میں زیادہ پولنگ ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز چوہدری یاسین شکایت کر رہے تھے کہ مخالف امیدوار کے 80 فیصد ووٹ کاسٹ ہوئے جبکہ چوہدری یاسین کے اپنے حلقے میں 96 فیصد پولنگ کے ثبوت موجود ہیں۔

انہوں نے مرحلہ وار انتخابات پر پیپلز پارٹی کے اعتراض کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن نے سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر تمام جماعتوں سے مشاورت کی تھی اور پیپلز پارٹی بھی مرحلہ وار انتخابات پر متفق تھی۔

میرپور ڈویژن میں شکست سے قبل پیپلز پارٹی نے مرحلہ وار انتخابات کے خلاف کوئی اعتراض نہیں کیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ پنجاب کی نشستوں پر پیپلز پارٹی نے نہ جلسے کیے، نہ میٹنگز کیں اور نہ ہی انتخابات میں حصہ لیا۔

انہوں نے پیپلز پارٹی کے بعض بیانات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’’کدھر گیا وہ ایم ایل اے جس کا بازو ڑ گیا تھا؟‘‘ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ جمہوری عمل کے بارے میں اس طرح بات کرنا مناسب نہیں۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے گلگت بلتستان کے انتخابات میں جمہوری فراخدلی کا مظاہرہ کیا، اب آج کے انتخابی مرحلے کے بعد پیپلز پارٹی کو چاہیے کہ الٹی گنتی کو سیدھا کرلے اور مسلم لیگ (ن) کو کامیابی پر مبارکباد دے۔

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ عوام نے آزاد کشمیر کے انتخابات میں بھرپور حصہ لیا ہے اور دھرنے والے اپنے مقصد میں ناکام ہو چکے ہیں۔ دھرنے والوں کو چاہیے کہ خود کو قانون کے حوالے کریں۔ آزاد کشمیر کی منتخب حکومت جس طرح بھی اس مسئلے کو حل کرے گی۔

وفاقی حکومت اسے مکمل حمایت فراہم کرے گی۔انہوں نے کہا کہ اگر آزاد کشمیر یا وفاقی حکومت فیصلہ کرتی کہ دھرنا کلیئر کرا کے وہاں انتخابات کرائے جائیں تو یہ کوئی مشکل کام نہیں تھا تاہم دھرنے میں بچوں اور خواتین کو ڈھال بنایا گیا ہے۔

وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ دھرنے میں موجود تین سے چار ہزار افراد میں سے شاید ایک فیصد ایسے ہوں جن کے مقاصد انہیں ’’سندور ٹو‘‘ کا آلہ کار قرار دینے کے زمرے میں آتے ہوں جبکہ آزاد کشمیر کے باقی عوام محب وطن ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس معاملے کو آزاد کشمیر کی حکومت زیادہ بہتر انداز میں حل کرنے کی پوزیشن میں ہوگی۔انہوں نے کہا کہ تین سے چار سو پولنگ اسٹیشنز میں سے صرف دو تین اسٹیشنز پر مسائل پیش آئے ہیں، جنہیں بنیاد بنا کر پیپلز پارٹی نے دھاندلی کا واویلا شروع کیا ہوا ہے۔

رانا ثناء اللہ نے دعویٰ کیا کہ مسلم لیگ (ن) کو دو تہائی اکثریت مل رہی ہے اور انتخابی مرحلہ مکمل ہونے کے بعد حکومت سازی کا عمل شروع ہوگا، جس کے بعد آزاد کشمیر میں تعمیر و ترقی کا نیا دور شروع ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ چار نشستوں میں سے مسلم لیگ (ن) کو دو پر کامیابی کی امید ہے، جبکہ پورے پونچھ ڈویژن سے چھ سے سات نشستیں مل سکتی ہیں۔ مخصوص نشستیں شامل کرکے مسلم لیگ (ن) کو تقریباً 30 ارکان کی حمایت حاصل ہونے کی توقع ہے۔

اس موقع پر نو منتخب ایم ایل اے ڈاکٹر مصطفیٰ بشیر اور ایڈووکیٹ شفقت علی چوہدری موجود تھے۔