جوہانسبرگ(کشمیر ڈیجیٹل) مودی سرکار کو عالمی سطح پر بڑا دھچکا، عالمی شہری حقوق کی تنظیم ‘سیویکس’ نے بھارت کو اپنی تازہ مانیٹر واچ لسٹ میں شامل کر لیا۔
مانیٹرنگ واچ لسٹ میں وزیراعظم نریندر مودی کی تیسری مدت میں شہری آزادیوں میں تیزی سے کمی پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق، سیویکس نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ بھارت میں کارکنوں، صحافیوں، سول سوسائٹی کی تنظیموں اور اختلاف رائے رکھنے والوں پر کریک ڈاؤن تشویشناک حد تک بڑھ گیا ہے۔
انسانی حقوق کے محافظوں کو تنگ کیاجا رہا ہے، آزاد میڈیا پر پابندیاں سخت کی جا رہی ہیں اور حکومت مخالف آوازوں کو خاموش کرنے کے لیے دہشت گردی مخالف قوانین کا مکرر استعمال کیا جا رہا ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:کویت کیساتھ دفاعی تعاون معاہدے کی توثیق سے دفاعی تعلقات مزید مستحکم ہونگے،دفتر خارجہ
سیویکس مانیٹر فی الحال بھارت کو ‘ریپریسڈ’ (دبی ہوئی آواز) کے زمرے میں رکھتا ہے، جو عالمی شہری آزادیوں کے اشاریے میں دوسرا بدترین درجہ ہے اس کا مطلب ہے کہ اظہارِ رائے، پرامن اجتماع اور تنظیم سازی کی آزادیوں پر شدید پابندیاں عائد ہیں۔
بھارت کو بحرین، برکینا فاسو، ایکواڈور اور جارجیا کے ساتھ واچ لسٹ میں شامل کیا گیا ہے۔تنظیم کے مطابق، مارچ 2026 میں دہلی پولیس نے گیارہ کارکنوں کو بغیر وارنٹ اور اہلِ خانہ کو اطلاع دیے گرفتار کیا،
جن میں طلبہ، مزدور رہنما اور بے گھری کے خلاف مہم چلانے والے شامل تھے۔ حراست میں بعض ملزمان کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔سیویکس نے غیر قانونی سرگرمیاں کی روک تھام کے کالے قانون (UAPA) کے تحت کارکنوں کے خلاف مقدمات جاری رکھنے پر بھی تنقید کی۔
بھیما کورے گاؤں کیس میں ملوث کارکنوں کے خلاف این آئی اے کی کارروائیاں جاری ہیں، جبکہ عمر خالد اور شریف امام کو 2020 سے UAPA کے تحت قید رکھنے کے باوجود ضمانت سے انکار کیا جا رہا ہے۔
تنظیم نے نویڈا میں فیکٹری مزدوروں کے احتجاج کے دوران 300 سے زائد افراد کی گرفتاری، اور 20 جولائی کو ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ کے مظاہروں میں نوجوانوں پر طاقت کے استعمال کو پرامن اجتماع کی آزادی پر حملہ قرار دیا۔
سیویکس کے محقق جوزف بینیڈکٹ نے کہا کہ “بھارتی حکومت نے اختلاف کو خاموش کرنے کیلئے سفاکانہ دہشتگردی مخالف قوانین کا استعمال منظم طور پر بڑھایا جب انسانی حقوق کے محافظ اپنی بنیادی آزادیوں کے استعمال پر برسوں قانونی چارہ جوئی میں الجھے رہیں تو یہ عمل خود ایک سزا بن جاتا ہے۔”
صحافیوں پر دباؤ کا ذکر کرتے ہوئے سیویکس نے تفتیشی صحافی روی نائر کی مجرمانہ توہینِ عدالت کے مقدمے میں سزا، ڈیجیٹل نیوز آؤٹ لیٹ ‘تیلگو اسکرائب’ کے خلاف دہشت گردی قانون کے تحت انکوائری، اور آسام کے وزیراعلیٰ پر تنقید کے بعد آسامی روزنامہ ‘اسومیہ پرتیدین’ کے دفتر پر حملے کا حوالہ دیا گیا۔
سیویکس نے بھارت کے آئی ٹی قواعد میں مجوزہ ترامیم کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا، جن سے صحافیوں اور آزاد میڈیا پر حکومتی سنسر شپ میں اضافہ ہو گا۔ حال ہی میں انسانی حقوق کے کارکن جسونت سنگھ کھلرا کی زندگی پر بننے والی فلم ‘ستلج’ پر پابندی کو بھی تشویشناک قرار دیا گیا۔
غیر سرکاری تنظیموں پر خارجی تعاون (ریگولیشن) ایکٹ (FCRA) کے تحت بڑھتی پابندیوں کو اجاگر کرتے ہوئے سیویکس نے کہا کہ جون 2026 میں کی گئی ترامیم نے غیر ملکی فنڈنگ کی اجازت نامے منسوخ ہونے والی تنظیموں کے اثاثوں پر کنٹرول بڑھا دیا ہے
جبکہ رپورٹنگ کی اضافی شرائط اور سیاسی سرگرمیوں میں مزید پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔مقبوضہ جموں و کشمیر کا ذکر کرتے ہوئے سیویکس نے کہا کہ وہاں شہری آزادیوں پر پابندیاں خاص طور پر سنگین ہیں۔
انسانی حقوق کے کارکن خرم پرویز اور صحافی عرفان مہراج کو طویل قید کے بعد جولائی میں سخت شرائط پر ضمانت تو مل گئی، تاہم ان پر جو اے پی اے کے تحت مقدمات جاری ہیں۔
اس کے علاوہ، انٹرنیٹ کی پابندیوں کے ذریعے معلومات تک رسائی محدود کی گئی، انسانی حقوق سے متعلق سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو نشانہ بنایا گیا، اور حال ہی میں متنازعہ مواد پر مبنی کتابوں کی اشاعت پر تین پبلشرز کو گرفتار کیا گیا۔




