سینئر صحافی فخر درانی نے بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘کے ایجنٹس کے ذریعے پاکستان مخالف پروپیگنڈے سے متعلق اپنی رپورٹ کے حوالے سے مزید شواہد شیئر کر دئیے ہیں۔
فخر درانی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک اسکرین شاٹ اور تین ویڈیوز پوسٹ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ 3 جولائی کو ان کی ایک مبینہ ’’را‘‘ ایجنٹ سے 36 منٹ تک تفصیلی گفتگو ہوئی جس میں اس شخص نے Pegasus پراجیکٹ اور پاکستان سے متعلق اپنے کردار پر بات کی۔
یہ بھی پڑھیں:اکاڑہ: سی ٹی ڈی کی کارروائی، بھارتی را ایجنٹ گرفتار،بارودی مواد برآمد
فخر درانی نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ مذکورہ گفتگو کے دوران ایجنٹ نے تفصیل سے بتایا کہ ’’ڈی ڈبلیو‘‘، ’’دی سن‘‘ اور ایک فرانسیسی اخبار کے لیے پاکستان میں جگہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ان کے مطابق ایجنٹ نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ان اداروں کا مواد بھی پاکستان میں رسائی حاصل کرے اور یہاں شائع یا قابلِ رسائی ہو۔
فخر درانی نے اپنی پوسٹ کے ساتھ پہلی تصویر کے طور پر مبینہ ’’را‘‘ ایجنٹ سے ہونے والی 36 منٹ کی کال کا ریکارڈ بھی شیئر کیا، جبکہ بعد ازاں اس گفتگو کا اسکرین شاٹ بھی سوشل میڈیا پر جاری کیا۔
انہوں نے بتایا کہ پہلی ویڈیو میں ’’را‘‘ کے ایجنٹ کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ ’’ڈی ڈبلیو‘‘ اور ’’دی سن‘‘ پاکستان میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانا چاہتے ہیں اور خواہش رکھتے ہیں کہ ان کا مواد بھی یہاں تک پہنچے۔
فخر درانی کے مطابق ویڈیو میں ایجنٹ یہ بھی کہتا ہے کہ یہ ادارے اپنی مرضی کا مواد شائع کرنا چاہتے ہیں تاہم انہیں اپنی حکومت کی جانب سے اجازت نہیں مل رہی ہے۔
فخر درانی کے مطابق دوسری ویڈیو میں مبینہ ’’را‘‘ ایجنٹ یہ کہتا ہے کہ ان کی کسی سے کوئی دشمنی نہیں، بلکہ وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ انہیں بھی پاکستان میں اتنی ہی جگہ اور پذیرائی ملے جتنی بی بی سی اردو کو حاصل ہے۔
ویڈیو میں ایجنٹ یہ بھی کہتا ہے کہ ان کا مقصد کسی قسم کا احتجاج کرانا نہیں بلکہ صرف یہ ہے کہ ان کے مواد کو بھی پاکستان میں رسائی حاصل ہو۔
یہ بھی پڑھیں:بھارتی فنڈنگ لیکرکالعدم ایکشن کمیٹی کشمیر کاز کونقصان پہنچارہی ہے ،عطاء اللہ تارڑ
فخر درانی نے بتایا کہ تیسری ویڈیو میں مبینہ’’را‘‘ ایجنٹ Pegasus منصوبے سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کرتا ہے کہ اس رپورٹ میں تین سے چار ممالک کے افراد شامل تھے۔
فخر درانی کے مطابق ویڈیو میں ایجنٹ Pegasus رپورٹ میں اپنے کردار کا بھی ذکر کرتا ہے۔




