نکیال (کشمیر ڈیجیٹل) پیپلز پارٹی کا انتہائی متحرک کارکن اور امیدوار جاوید اقبال بڈھانوی کا متعمد خاص مختار یونس مسلم لیگ ن کے کارکنوں کی فائرنگ سے جاں بحق ہوگئے۔جبکہ تین زخمی ہوگئے ۔
زرائع کے مطابق گاوں دھیری میں دوران پولنگ تصادم اور فائرنگ ایک شخص جاں بحق 3افراد زخمی،جاں بحق وزخمی ہونیوالے کارکنوں کا تعلقپاکستان پیپلزپارٹی آزادکشمیر سے ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:دھریک : مسلح جتھے کا انتخابی عمل سبوتاژ کرنے کا سنگین منصوبہ سامنے آگیا
پاکستان پیپلزپارٹی آزاد جموں و کشمیر کے الیکشن سیل کے انچارج سردار عبدالشکور نے کہا کہ حلقہ ایل اے-9 نکیال میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار سردار عمیر نعیم کی جانب سے اسلحے کی نمائش اور عوام کو ہراساں کرنے کے واقعات کے دوران پاکستان پیپلزپارٹی کے کارکن مختار یونس ولد کامران جاں شہید ہو گئے ۔
سردار عبدالشکور نے کہا ہے کہ حلقہ ایل اے-9 کوٹلی ٹو نکیال میںامیدوار جاوید اقبال بدھانوی کے پولنگ اسٹیشن نمبر 14، 15 اور 16 پر مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں نے پیپلزپارٹی کی خواتین پولنگ ایجنٹس کو ہراساں کیا اور انہیں یرغمال بنا رکھا ہے۔
سردار عبدالشکور نے کہا کہ اس افسوسناک واقعے میں ملوث تمام افراد کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے، علاقے میں امن و امان کی صورتحال بحال کی جائے اور ووٹروں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:بلاول بھٹو کا میرپور کے عوام کے لیے ویڈیو پیغام، ووٹرز سے ووٹ کے ذریعے فیصلہ کرنے کی اپیل
انہوں نے کہا کہ چند روز قبل سردار عمیر نعیم اور ان کے ساتھیوں کی جانب سے اسلحے کی نمائش اور لوگوں کو خوفزدہ کرنے کی ویڈیو بھی منظر عام پر آ چکی تھی۔ اگر اس وقت متعلقہ ادارے بروقت کارروائی کرتے تو آج اس افسوسناک واقعے سے بچا جا سکتا تھا۔
سردار عبدالشکور نے الیکشن کمیشن آزاد جموں و کشمیر، ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا کہ واقعے کی فوری تحقیقات کر کے ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے تاکہ انتخابی عمل پرامن ماحول میں مکمل ہو سکے۔
سردار عبدالشکور نے کہا کہ ان پولنگ اسٹیشنز پر پاکستان پیپلزپارٹی کے پولنگ ایجنٹس کو ان کے فرائض انجام دینے سے روکا جا رہا ہے جبکہ مخالف امیدوار کے حامی خود بیلٹ پیپرز پر مہریں لگا رہے ہیں جو انتخابی عمل کی شفافیت پر سنگین سوالیہ نشان ہے۔
انہوں نے الیکشن کمیشن آزاد جموں و کشمیر، ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا کہ فوری مداخلت کرتے ہوئے خواتین پولنگ ایجنٹس کو تحفظ فراہم کیا جائے، انتخابی عمل کو شفاف بنایا جائے اور ذمہ دار عناصر کے خلاف فوری قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔




