جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے پنجاب کے شہر قصور میں دیے گئے حالیہ متنازع بیان پر ملک کی سیاسی قیادت نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ان سے معافی کا مطالبہ کیا ہے۔ وفاقی وزراء، اسپیکر پنجاب اسمبلی اور دیگر سیاست دانوں کی جانب سے اس خطاب پر مذمت اور گہرے رنج و غم کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
پنجاب کے شہر قصور میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے ملکی اداروں اور خاص طور پر فوج کے حوالے سے سخت اور متنازع گفتگو کی تھی۔ جے یو آئی (ف) کے سربراہ کے اس خطاب کے بعد ملک بھر کے سیاسی میدان میں ایک نیا طوفان کھڑا ہو گیا ہے اور وفاقی وزراء سمیت دیگر سیاست دانوں کی جانب سے شدید ردعمل اور مذمت کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر دفاع خواجہ آصف کا مولانا فضل الرحمان کے حالیہ بیان پر سخت ترین ردعمل
مولانا فضل الرحمان ایک کہنہ مشق سیاست دان اور ممتاز مذہبی رہنما ہیں، اس لیے ان سے الفاظ کے انتخاب میں زیادہ ذمہ داری کی توقع کی جاتی ہے۔ فوجی جوانوں کی وطن کے لیے قربانی کو ان کی تنخواہ سے جوڑنا نہ صرف غیرمنصفانہ ہے بلکہ شہداء اور ان کے خاندانوں کی دل آزاری کے مترادف ہے۔ کوئی شخص…
— Khawaja M. Asif (@KhawajaMAsif) July 13, 2026
وفاقی وزراء کا شدید ردعمل اور تنقید:
وزیر دفاع خواجہ آصف نے اس معاملے پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحمان ایک کہنہ مشق سیاستدان اور ممتاز مذہبی رہنما ہیں، اس لیے ان سے الفاظ کے انتخاب میں زیادہ ذمہ داری کی توقع کی جاتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ فوجی جوانوں کی قربانی کو تنخواہ سے جوڑنا غیرمنصفانہ اور شہداء کے خاندانوں کی سخت دل آزاری ہے، کیونکہ کوئی بھی شخص محض تنخواہ کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش نہیں کرتا بلکہ اس کے پیچھے نظریہ، عقیدہ اور وطن سے محبت کا جذبہ کارفرما ہوتا ہے۔
مولانا صاحب!
آپ سے ہمارا تعلق ہمیشہ احترام کا رہا ہے، اسی احترام کے جذبے کے تحت چند گزارشات پیش کرنا چاہتا ہوں۔
آپ کے حالیہ بیان سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ آپ نے جذبات کی رو میں بہہ کر ہمارے شہداء کی عظیم قربانیوں کی قدر و منزلت کو کم کرکے پیش کیا۔ اس سے نہ صرف میرے بلکہ کروڑوں…— Ahsan Iqbal (@betterpakistan) July 13, 2026
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے بھی مولانا فضل الرحمان کے اس خطاب کو اسلامی تعلیمات اور اخلاقی تقاضوں کے مکمل طور پر منافی قرار دیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر مولانا فضل الرحمان کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ مولانا صاحب، آپ سے ہمارا تعلق ہمیشہ احترام کا رہا ہے لیکن آپ کے بیان سے یہ تاثر ملا کہ آپ نے جذبات میں بہہ کر شہداء کی قربانیوں کی قدر کو کم کر کے پیش کیا، جس سے کروڑوں پاکستانیوں کے جذبات بری طرح مجروح ہوئے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ آج اگر ہم مساجد، مدارس اور جلسوں میں امن و امان سے بیٹھے ہیں تو اس کی بنیادی وجہ سرحد پر کھڑا سپاہی ہے۔
عون چوہدری کا مولانا فضل الرحمن کے بیان پر سخت ردعمل، معافی کا مطالبہ کر دیا !!!
مولانا فضل الرحمن کو شرم آنی چاہیے، آپ نے فوجی جوانوں کی شہادتوں کو تنخواہ سے جوڑ دیا، ہم آپ کو ڈبل پیسے دیتے ہیں آپ اور آپ کے بچے اس ملک کے لیے شہید ہوں، عون چوہدری pic.twitter.com/L9V8dbgIeh
— Ehtsham Kiani (@ehtshamkiani) July 14, 2026
شہادت کے رتبے کی توہین اور معافی کا مطالبہ:
وزیر مملکت برائے سمندر پار پاکستانی امور عون چوہدری نے مولانا فضل الرحمان سے پوری قوم اور شہداء کے لواحقین سے فوری معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ مولانا صاحب نے شہادت جیسے عظیم اور مقدس رتبے کو تنخواہ سے جوڑ دیا ہے، حالانکہ شہادت تنخواہ سے نہیں بلکہ حب الوطنی اور ایمان کے جذبے سے حاصل ہوتی ہے۔
اسی طرح وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے بھی رنج کا اظہار کرتے ہوئے یہ سوال اٹھایا کہ کیا کسی شہید کی قیمتی جان کی کوئی قیمت ہو سکتی ہے؟ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب کو مل کر ایک متفقہ بیانیہ بنانے کی ضرورت پر خصوصی زور دیا۔ مزید برآں، وزیر مملکت برائے ریلوے حنیف عباسی نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے اپنے بیان سے پوری قوم کا دل دکھایا ہے، جبکہ پاک فوج گزشتہ پینتیس سال سے مسلسل حالت جنگ میں ہے۔
مزید پڑھیں: پاک فوج کیخلاف ہرزاسرائی، فیاض الحسن چوہان کا مولانا فضل الرحمن سے معافی کا مطالبہ
معرکۂ حق میں افواجِ پاکستان کا کردار سب کو یاد ہے۔ سپہ سالار کی قیادت میں افواجِ پاکستان نے بھارت کو عبرت ناک شکست دی۔ پاکستان کے عوام کو اپنی افواج پر ناز ہے، ہم تمہاری کسی بات کو نہیں مانتے، ہمیں پاکستان کی حرمت عزیز ہے۔ اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان کا مولانا فضل الرحمان کو… pic.twitter.com/jZIOA1EXJW
— Azaad Urdu (@azaad_urdu) July 13, 2026
آئینی حدود اور قربانیوں کا دفاع:
اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے بھی سخت الفاظ میں تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ذرا ہوش سنبھال کر بات کریں، یہ فوج ہمارے ماتھے کا جھومر ہے اور اس کا ایک ایک جوان دشمنوں کا بہادری سے مقابلہ کرتے ہوئے اپنی جان پیش کرتا ہے۔
شہادت” مقصود و مطلوبِ مومن ہے۔ یہ اُس کا نصیب ہے جو قاری نظر آتا ہے، حقیقت میں ہے قرآن۔ یہ راز ہم دنیاداروں، تنخواہ داروں کی سمجھ سے بالاتر ہے۔ اللہ تعالیٰ شہداء کے ورثاء اور غازیوں کو صبرِ جمیل اور یقینِ محکم کی دولت سے مالا مال رکھے کہ یہی ہماری آزادی اور بقا کا ضامن ہے۔ “آمین
— Rana Sana Ullah Khan (@RanaSanaullahPK) July 14, 2026
دوسری جانب، وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے بھی نام لیے بغیر اپنا ردعمل دیا اور کہا کہ شہادت مومن کا اصل مقصد ہے اور یہ ایسا راز ہے جو ہم دنیا داروں اور تنخواہ داروں کی سمجھ سے بالکل بالاتر ہے۔
استحکام پاکستان پارٹی کے ترجمان فیاض الحسن چوہان نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ فوج تنخواہ کے لیے نہیں بلکہ صرف اور صرف وطن کے لیے قربانیاں دیتی ہے، مولانا صاحب کے اس بیان سے شہداء کے ورثاء کی سخت دل آزاری ہوئی ہے۔ تاہم، دوسری جانب سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے اس معاملے پر ایک بالکل مختلف مؤقف اپنایا اور کہا کہ مولانا فضل الرحمان ایک سنجیدہ اور زیرک شخصیت ہیں، لہٰذا ان کی طرف سے خیبر پختونخوا کی موجودہ صورتحال پر دیے گئے بیان کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جانا چاہئے۔
مولانا فضل الرحمنٰ ایک سنجیدہ اور زیرک شخصیت ہیں ان کی طرف سے خیبر پختونخواہ کی صورتحال پر یہ بیان انتہائ سنجیدہ لینا چاھئے https://t.co/A1p9Dt4UhC
— Ch Fawad Hussain (@fawadchaudhry) July 12, 2026
مولانا فضل الرحمان نے اپنے اس متنازعہ دورانِ خطاب یہ موقف اختیار کیا تھا کہ ہر محکمے کا اپنا ایک دائرہ اختیار متعین ہے۔ اس کے بعد انہوں نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں امن و امان کی خراب صورتحال پر کھل کر تنقید کی تھی، جس کے دوران انہوں نے فوجی جوانوں کی شہادت کے حوالے سے ایک انتہائی متنازعہ بیان جاری کیا۔ جے یو آئی (ف) کے سربراہ کے اس متنازع بیان پر وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات عطا تارڑ سمیت متعدد وفاقی وزراء اور مختلف سیاسی رہنماؤں نے شدید ترین ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے شہداء کی قربانیوں کی واضح توہین قرار دیا ہے اور مولانا فضل الرحمان سے قوم اور لواحقین سے معافی کا مطالبہ کیا ہے۔




