یکم مارچ کو کویت کی بندرگاہ پر ایرانی حملے میں 6 امریکی فوجی مارے گئے ۔
امریکی اخبار کے مطابق کے مطابق اس حملے کا نشانہ وہاں موجود امریکی فوجی تنصیبات تھیں، جس کے نتیجے میں کم از کم 6 امریکی فوجی ہلاک اور درجنوں شدید زخمی ہو چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملے کے فوراً بعد ریسکیو ٹیموں نے زخمیوں کو قریبی ہسپتالوں اور فوجی طبی مراکز میں منتقل کیا۔
طبی ذرائع کا کہنا ہے کہ زخمی ہونے والے متعدد اہلکاروں کی حالت انتہائی تشویشناک ہے، جس کے باعث ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
اس حملے نے خطے میں پہلے سے موجود سکیورٹی کے سنگین خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ حملے میں محفوظ رہنے والے بعض امریکی فوجی اہلکاروں اور عینی شاہدین کے بیانات بھی سامنے آئے ہیں، جن میں اعلیٰ قیادت پر شدید تنقید کی گئی ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:آپریشن وعدہ صادق 4 کی 97 ویں لہر:متحدہ عرب امارات میں 25 امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا بڑا دعویٰ
اہلکاروں کا کہنا ہے کہ امریکی جرنیلوں اور سینیئر کمانڈروں کو پہلے ہی واضح انٹیلیجنس وارننگ دی گئی تھی کہ مذکورہ بندرگاہ اور وہاں موجود تنصیبات ممکنہ حملے کی زد میں ہیں اور سکیورٹی کے لحاظ سے غیر محفوظ ہیں۔
تاہم، کمانڈروں نے ان انتباہی رپورٹس کو مبینہ طور پر نظر انداز کیا اور حفاظتی اقدامات کا بروقت جائزہ نہیں لیا۔
امریکی اخبار کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کمانڈروں کی اس سنگین غفلت کے باعث دفاعی نظام متحرک نہ ہو سکا، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایرانی ڈرونز نے ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:مشرقِ وسطیٰ کشیدگی: امریکی فوجی اڈوں پر حملوں میں 160 امریکی ہلاک، ایرانی فوج کا دعویٰ
اس واقعے کے بعد امریکی فوجی حلقوں اور پینٹاگون میں سیکیورٹی پروٹیکول اور انٹیلیجنس شیئرنگ کے نظام پر شدید سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، جبکہ خطے میں بحری اور فضائی نگرانی کو مزید سخت کر دیا گیا ہے۔




