وفاقی حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ہے۔ یہ اہم درخواست جوڈیشل ایکٹوزم پینل کی جانب سے دائر کی گئی ہے، جس میں عدالت عالیہ سے استدعا کی گئی ہے کہ وہ عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت کے اس فیصلے کو فوری طور پر کالعدم قرار دے۔
جوڈیشل ایکٹوزم پینل کی جانب سے دائر متفرق درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بلاوجہ اور بلاجواز اضافہ کیا ہے، جس کا براہِ راست بوجھ پہلے سے پسے ہوئے عوام پر پڑے گا۔ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مسلسل گر رہی ہیں، لیکن اس کے برعکس پاکستان میں قیمتوں کو بڑھایا جا رہا ہے جو کہ معاشی منطق کے سراسر خلاف ہے۔
درخواست کے اہم نکات اور حکومتی میکنزم پر سوالات:
درخواست میں وفاقی حکومت کے طریقہ کار پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت کے پاس پیٹرولیم کی قیمتوں میں ردوبدل کا کوئی ٹھوس اور شفاف میکنزم موجود نہیں ہے۔ اوگرا اور حکومت کی جانب سے قیمتوں کا تعین مبہم انداز میں کیا جاتا ہے جس سے پیٹرولیم مافیا کو فائدہ پہنچنے کا خدشہ رہتا ہے۔ جوڈیشل ایکٹوزم پینل اس سے قبل بھی عوامی مفاد کے معاملات پر عدالتوں سے رجوع کرتا رہا ہے اور حالیہ پیٹرولیم بحران پر عوام میں پائے جانے والے شدید غم و غصے کے بعد یہ قانونی قدم اٹھایا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مٹی کا تیل بھی مہنگا،پیٹرول پر لیوی 80روپے فی لیٹر مقرر کردی گئی
پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں طویل عرصے سے ایک حساس موضوع رہی ہیں۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران، آئی ایم ایف کی شرائط اور لیوی میں ردوبدل کے باعث عوام پر پیٹرول بم گرانے کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے۔ عالمی منڈی میں جب بھی قیمتیں کم ہوتی ہیں، ملکی سطح پر عوام کو اس کا ریلیف منتقل نہیں کیا جاتا، بلکہ ٹیکسوں کی شرح بڑھا کر قیمتیں برقرار رکھی جاتی ہیں یا مزید بڑھا دی جاتی ہیں۔
قانونی جنگ اور معاشی اثرات:
واضح رہے کہ اس درخواست کی اہمیت بہت زیادہ ہے کیونکہ یہ حکومت کے قیمتوں کے تعین کے پورے نظام کو کٹہرے میں کھڑی کرتی ہے۔ اگرچہ عدالتیں عام طور پر حکومت کے پالیسی معاملات اور معاشی فیصلوں میں مداخلت سے گریز کرتی ہیں، لیکن اگر درخواست گزار یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہو جائے کہ قیمتوں کا اضافہ آئین کے آرٹیکل 9 (حقِ زندگی) کے خلاف ہے اور اس میں شفافیت کا فقدان ہے، تو عدالت حکومت کو قیمتوں کے تعین کے لیے ایک واضح اور شفاف میکنزم بنانے کا حکم دے سکتی ہے۔
معاشی طور پر پیٹرول کی قیمت بڑھنے سے ملک میں مہنگائی کا ایک نیا طوفان آتا ہے، جس سے ٹرانسپورٹ، اشیاء خورونوش اور دیگر ضروریاتِ زندگی عام آدمی کی پہنچ سے دور ہو جاتی ہیں۔ لہٰذا، عدالت کا اس کیس میں کوئی بھی حکم نامہ ملکی سیاست اور معیشت پر گہرے اثرات مرتب کرے گا۔




