ن لیگ برطانیہ کے رہنماؤں کا چوہدری مسعود خالد، راجہ علی زمان یا راجہ شعیب عابد کو ٹکٹ دینے کا مطالبہ

گزشتہ روز منعقد ہونے والی ایک اہم محفل میں پاکستان مسلم لیگ (ن) برطانیہ کے چند انتہائی اہم ارکان نے شرکت کی اور موجودہ سیاسی حالات پر اپنی اپنی رائے کا تفصیلی اظہار کیا۔ اس موقع پر موجود تمام اراکین نے یک زبان ہو کر ایک ہی بات کا اعادہ کیا جس کا مشترکہ اظہار ن لیگ کے مرکزی رہنماؤں نے اپنے بیانات میں کیا ہے۔

اس مشترکہ مؤقف کا کھل کر اظہار ن لیگ برطانیہ کے مرکزی جوائنٹ سکریٹری و چیف آرگنائزر ن لیگ برمنگھم محمد دلدار مغل اور مرکزی رہنما راقم راجہ رمیض گکھڑ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے حلقہ نمبر ایک کے انتخابی ٹکٹ کے حوالے سے پارٹی قیادت کے سامنے اپنا واضح مؤقف پیش کیا۔

یہ بھی پڑھیں: آزاد جموں و کشمیر اسمبلی انتخابات 2026: کاغذات نامزدگی جمع کرانے کا مرحلہ مکمل ہو گیا

حلقہ نمبر ایک کے لیے موزوں امیدواروں پر اتفاق:

دونوں مرکزی رہنماؤں نے حلقہ نمبر ایک کا ن لیگ کا ٹکٹ پارٹی کے دیرینہ اور مخلص ٹکٹ ہولڈرز کو دینے پر مکمل اتفاق کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حلقہ نمبر ایک کا ٹکٹ ن لیگ کے ٹکٹ ہولڈر چوہدری مسعود خالد صاحب، راجہ علی زمان صاحب یا راجہ شعیب عابد صاحب میں سے ہی کسی بھی امیدوار کو دیا جائے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ان تینوں میں سے کسی بھی مخلص امیدوار کو ٹکٹ دینے پر اوورسیز تنظیم کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا اور سب ان کی بھرپور حمایت کریں گے۔ تاہم، انہوں نے کسی دوسرے بیرونی یا پارٹی بدلنے والے امیدوار کو حلقے پر مسلط کرنے کی سخت مخالفت کی ہے۔

پی ٹی آئی کے سابق ٹکٹ ہولڈر کو ٹکٹ دینے پر انتباہ:

رہنماؤں نے سخت الفاظ میں انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ اگر ن لیگ کا ٹکٹ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کسی سابق ٹکٹ ہولڈر کو دیا گیا تو اوورسیز کے ن لیگی شیروں کی طرف سے اس پر انتہائی شدید ردعمل سامنے آئے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس فیصلے کا لامحالہ اور براہِ راست نقصان خود جماعت کو ہی ہو گا۔

انہوں نے ن لیگ آزاد جموں و کشمیر کے مرکزی صدر شاہ غلام قادر صاحب اور قائدِ تحریک میاں نواز شریف صاحب سے پرزور اپیل کی ہے کہ حلقے کا ٹکٹ میرٹ کے مطابق، جماعت کے اصولوں اور میاں نواز شریف صاحب کی واضح ہدایات کے مطابق ہی جاری کیا جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کسی بھی پیرا شوٹر یا پی ٹی آئی کے کسی رکن کو شیر پر ہرگز سوار نہ کیا جائے۔