oil price

عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی، پاکستان کو بڑا معاشی فائدہ ملنے کا امکان

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے، جہاں مارکیٹ کے حالیہ سیشن میں معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے لیکن مجموعی طور پر قیمتیں مندی کی جانب گامزن ہیں۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 66 سینٹ کے معمولی اضافے کے بعد 80.38 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئی ہے، تاہم اس معمولی اضافے کے باوجود ہفتہ وار بنیادوں پر برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 8 فیصد کمی کی جانب بڑھ رہی ہے، جس کا سب سے بڑا فائدہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کو ہو سکتا ہے جو اپنی ضرورت کا زیادہ تر تیل درآمد کرتے ہیں اور اس سے ان کے زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ کم ہوگا۔

دوسری جانب امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت میں بھی 94 سینٹ کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد یہ 77.54 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ توانائی مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کے بحران میں سیزفائر (جنگ بندی) کے بعد سپلائی کے حوالے سے پیدا ہونے والے شدید خدشات میں نمایاں کمی آئی ہے، جس نے عالمی مارکیٹ پر قائم دباؤ کو کافی حد تک کم کر دیا ہے۔ تاہم دوسری طرف ایران کی جانب سے ایک نئی پیش رفت نے مارکیٹ کو دوبارہ غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے جہاں ایران نے دنیا کی اہم ترین تجارتی گزرگاہ ‘آبنائے ہرمز’ سے بحری جہازوں کی آمدورفت پر نئی شرائط عائد کر دی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کل سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 55 روپے فی لیٹر تک کی بھاری کمی متوقع

آبنائے ہرمز پر ایرانی شرائط اور سپلائی چین پر اثرات:

رپورٹس کے مطابق ایران نے تمام شپنگ ٹریفک کو پاسج (گزرگاہ) کے استعمال کے لیے اپنے ریولوشنری گارڈز سے ہم آہنگ کرنے کی سخت ہدایت کی ہے، جس کے باعث عالمی توانائی کی سپلائی چین پر منفی اثرات پڑنے کے خدشات ابھر رہے ہیں۔ عالمی معیشت میں خام تیل کی قیمتوں کا سدِباب ہمیشہ سے جیو پولیٹیکل (جغرافیائی سیاسی) حالات سے جڑا رہا ہے۔ ’آبنائے ہرمز‘ (اسٹریٹ آف ہرمز) دنیا کی سب سے اہم تجارتی گزرگاہ ہے جہاں سے دنیا کے کل خام تیل کا تقریباً 20 فیصد حصہ بحری جہازوں کے ذریعے گزرتا ہے، جس کی وجہ سے ایران کی جانب سے یہاں سخت شرائط عائد کرنے سے ماضی میں بھی قیمتیں یکدم 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر جاتی تھیں۔ موجودہ صورتحال اس لیے منفرد ہے کیونکہ ایک طرف مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی سے استحکام آ رہا ہے، تو دوسری طرف ایران اپنے انقلابی گارڈز کے ذریعے اس سپلائی چین پر اپنا کنٹرول مزید مضبوط کرنا چاہتا ہے۔

مزید پڑھیں: پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی بڑی کمی

امریکا ایران سفارتی پیش رفت اور 85 ملین بیرل اضافی تیل:

توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ جہاں آبنائے ہرمز میں نئی شرائط کی وجہ سے تشویش پائی جاتی ہے، وہیں دوسری جانب امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والی حالیہ سفارتی پیش رفت کے نتیجے میں ایک بڑی معاشی راحت کی امید بھی پیدا ہوئی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر دونوں ممالک کے درمیان سفارتی معاملات طے پا جاتے ہیں تو عالمی منڈی میں اضافی 85 ملین بیرل تیل کی فراہمی ممکن ہو جائے گی۔ تیل کی اتنی بڑی مقدار مارکیٹ میں آنے سے آئندہ مہینوں میں قیمتوں پر مزید دباؤ بڑھے گا اور تیل کی قیمتیں مزید نیچے آئیں گی، جس کا براہ راست فائدہ عوام تک پہنچے گا۔

آئندہ 6 سے 12 ماہ کی پیش گوئی اور قیمتوں کا توازن:

بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور توانائی کے ماہرین نے خام تیل کے مستقبل کے حوالے سے اہم پیش گوئیاں کی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکا ایران معاہدے کے تحت تیل کی سپلائی مارکیٹ میں معمول پر آ جاتی ہے، تو آئندہ 6 سے 12 ماہ کے دوران برینٹ خام تیل کی قیمتیں مزید گر کر 60 سے 65 ڈالر فی بیرل تک بھی جا سکتی ہیں۔ اس وقت عالمی تیل کی مارکیٹ دو متضاد قوتوں کے درمیان پھنسی ہوئی ہے، جہاں ایک طرف ایران کی آبنائے ہرمز پر ریولوشنری گارڈز کی شرط ہے جو قیمتوں کو اوپر لے جانے کا سبب بن رہی ہے، تو دوسری طرف امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی پیش رفت اور 85 ملین بیرل اضافی تیل کی مارکیٹ میں آمد کی توقع ہے، جو قیمتوں کو نیچے گرانے کا سب سے بڑا عنصر ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کا یہ اندازہ کہ تیل 60 سے 65 ڈالر تک آ سکتا ہے، یہ ظاہر کرتا ہے کہ عالمی سطح پر تیل کی طلب (ڈیمانڈ) کے مقابلے میں سپلائی کے متبادل ذرائع اور اضافی پیداوار کے امکانات زیادہ ہیں۔