امریکا کا جدید جنگی طیارہ ایف اے 18 ہارنیٹ تباہ، پائلٹ محفوظ

دنیا کے دو بڑے ممالک کی فضائیہ کو گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران الگ الگ فضائی حادثات کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس میں ایک طرف امریکا کا جدید جنگی طیارہ تباہ ہوا تو دوسری طرف بھارت میں فوجی طیارے کے حادثے میں 5 اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔ امریکی ریاست واشنگٹن میں معمول کی تربیتی پرواز کے دوران امریکی میرین کور کا ایک جدید لڑاکا طیارہ ایف اے 18 ہارنیٹ پہاڑی علاقے میں گر کر تباہ ہو گیا، تاہم خوش قسمتی سے پائلٹ بروقت ایجیکٹ کرنے کے باعث اپنی جان بچانے میں کامیاب رہا۔

ان دونوں فضائی حادثات نے بین الاقوامی سطح پر فوجی طیاروں کی تکنیکی مہارت اور پہاڑی علاقوں میں پروازوں کے چیلنجز پر ایک نئی بحث کا آغاز کر دیا ہے۔

امریکی طیارہ تباہ اور پائلٹ محفوظ:

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، امریکی ریاست واشنگٹن میں پیش آنے والے واقعے میں امریکی میرین کور کا کثیر المقاصد لڑاکا طیارہ ایف اے 18 ہارنیٹ معمول کے تربیتی مشن پر تھا کہ اچانک تکنیکی خرابی کے باعث پہاڑی سلسلے میں گر گیا۔ حادثے کے فوری بعد امریکی ریسکیو ٹیمیں جائے وقوعہ کی طرف روانہ کی گئیں، لیکن طیارے کے زمین پر گرنے سے قبل ہی پائلٹ نے کامیابی سے ایجیکٹ کر لیا تھا، جس کے باعث کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ امریکی حکام نے اس مہلک واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے باقاعدہ تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایران کا آبنائے ہرمز سے تمام جہازوں کی آمد ورفت بند کرنے کا اعلان

واضح رہے کہ ایف اے 18 ہارنیٹ امریکا کا ایک انتہائی قابل اعتماد اور جدید جنگی طیارہ ہے جو امریکی بحریہ اور میرین کور کے زیرِ استعمال ہے۔ ماہرین کے مطابق، تربیتی پروازوں کے دوران ایسے طیاروں کے گرنے کی وجوہات عام طور پر پرندوں کا انجن سے ٹکرانا (برڈ اسٹرائیک)، اچانک مکینیکل فیل ہونا یا پائلٹ کی کارکردگی کا دباؤ ہوتی ہیں، جبکہ واشنگٹن ریاست کے پہاڑی علاقوں میں موسم کی اچانک تبدیلی بھی پروازوں کے لیے ایک بڑا چیلنج تصور کی جاتی ہے۔

بھارتی فضائیہ کو بڑا دھچکا، آسام میں طیارہ حادثے کی وجوہات:

دوسری جانب، امریکی حادثے سے ٹھیک ایک روز قبل بھارتی فضائیہ کو بھی ایک بڑا دھچکا لگا، جب بھارتی ریاست آسام کے شہر جورہاٹ میں ایک فوجی طیارہ اے این 32 لینڈنگ کے دوران رن وے پر حادثے کا شکار ہو گیا۔ بھارتی فضائیہ کے ترجمان کے مطابق، طیارہ جورہاٹ ایئر بیس پر اتر رہا تھا کہ اچانک توازن بگڑنے کی وجہ سے اس میں خوفناک آگ لگ گئی۔ اس افسوسناک حادثے کے نتیجے میں طیارے میں سوار 5 فوجی اہلکار موقع پر ہی ہلاک ہو گئے، جبکہ کو پائلٹ شدید زخمی حالت میں زندہ بچنے میں کامیاب رہا، جسے فوری طور پر ملٹری ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

مزید پڑھیں: مٹی کا تیل، لائٹ ڈیزل اور جہازوں کا ایندھن بھی مہنگا ہو گیا

اے این 32 بنیادی طور پر یوکرین کا تیار کردہ ٹرانسپورٹ طیارہ ہے جسے بھارتی فضائیہ طویل عرصے سے سامان اور اہلکاروں کی نقل و حمل کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارتی فضائیہ کا ریکارڈ حالیہ برسوں میں طیاروں کے حادثات کے لحاظ سے کافی خراب رہا ہے، جس کی بڑی وجہ ان کے پرانے بیڑے (فلیٹ) کی ناقص مینٹیننس اور اسپیئر پارٹس کی شدید کمی ہے۔ اس کے علاوہ، آسام کا جورہاٹ ایئر بیس پہاڑی اور جنگلاتی علاقے کے قریب ہونے کی وجہ سے اکثر خراب موسم کی زد میں رہتا ہے جو حادثات کی ایک بڑی وجہ ہے۔