کالعدم م جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی حمایت میں سرگرم بعض سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے خلاف حکومت نے سخت ترین قانونی کارروائی کا فیصلہ کر لیا ہے ۔
ذرائع کے مطابق، ان اکاؤنٹس پر پاک فوج، رینجرز، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کیخلاف جھوٹا پروپیگنڈا کرنے، فیک نیوز پھیلانے اور مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کردہ جعلی اور ایڈیٹ شدہ تصاویر شیئر کرنے کا سنگین الزام ہے ۔
اس سلسلے میں فیڈرل انویسٹیگیشن ایجنسی (FIA) نے باضابطہ طور پر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے اور ایسے سینکڑوں مشکوک اکاؤنٹس کی نشاندہی کی جا رہی ہے جو ملک میں انتشار پھیلانے کی کوششوں میں مصروف تھے۔
سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ ان میں سے کئی اکاؤنٹس چلانے والے افراد آزاد کشمیر، پاکستان کے مختلف شہروں اور بیرونِ ملک مقیم ہیں، جن کے خلاف باقاعدہ مقدمات درج کیے جا رہے ہیں ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے کمائی کرنیوالوں کے گرد گھیرا تنگ ، بھاری ٹیکس لگا دیا گیا
حکومتی ذرائع کے مطابق حکومتِ آزاد کشمیر نے محکمہ داخلہ کے ذریعے اور چیف سیکرٹری کی وساطت سے ایف آئی اے کو ایک رسمی درخواست ارسال کی ہے ۔
اس درخواست میں درجنوں ایسے مخصوص ڈیجیٹل اکاؤنٹس کی نشاندہی کی گئی ہے جو مبینہ طور پر پاک فوج اور دیگر قومی اداروں کے خلاف منفی، زہریلا اور غیر مصدقہ مواد پھیلا کر عوام کو گمراہ کر رہے تھے۔
ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ نے اس معاملے پر اپنی تحقیقات تیز کر دی ہیں اور تمام ڈیجیٹل شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں ۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ انٹرنیٹ اور جدید ٹیکنالوجی کا غلط استعمال کر کے ریاستی اداروں کے وقار کو نقصان پہنچانے والوں کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:سوشل میڈیا پر مسلم لیگ ن کے ٹکٹوں کی تقسیم کے حوالے سے خبریں جعلی ہیں،ترجمان
اس قانون شکنی میں ملوث افراد کے خلاف گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے اور جلد ہی مزید اہم گرفتاریوں اور سخت تادیبی کارروائیوں کا قوی امکان ہے ۔




