اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل)مقبوضہ کشمیر کے سینئر صحافی مختار بابا نے کشمیر ڈیجیٹل کے پروگرام میں سینئر اینکر مجتبیٰ بٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عوامی ایکشن کمیٹی کا سڑکوں پر اپنے حقوق کی آڑ میں انتشار جمہوری نہیں آمریت کا طرز عمل ہے ۔
اس سے قبل حکومت آزادکشمیر و پاکستان نے عوامی ایکشن کمیٹی کیساتھ مذاکرات کے کئی ادوار کئے ۔ انہیں بارہ مہاجر نشستوں پررائے عامہ ہموار کرنے کا کہا گیا انہیں بار ہا کہا گیا کہ آپ اس معاملے پر عدالت سے رجوع کریں، الیکشن میں آئیں الیکشن لڑ کر اسمبلی کے زریعے ، آئینی طریقے سے معاملے کو حل کریں ۔ انہیں آفر کی گئی کہ ریفرنڈم کے ذریعے ان بارہ نشستوں کا معاملہ حل کرتے ہیں وہاں سے بھی بھاگ گئے ، آخر یہ کیا چاہتے ہیں ؟
مزید یہ بھی پڑھیں:سوشل میڈیا پر مسلم لیگ ن کے ٹکٹوں کی تقسیم کے حوالے سے خبریں جعلی ہیں،ترجمان
کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کی تحریک کوئی عوامی حقوق کی تحریک نہیں، کشمیری صحافی مختار بابا
سینئر صحافی مختار بابا کا کہنا تھا کہ کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کی یہ کوئی عوامی حقوق کی تحریک نہیں بلکہ بنیادی طور پر عوامی حقوق کی تحریک ہی نہیں ۔ کسی بھی ریاست میں ایسی صورتحال کا پیدا ہونا انتشار کا باعث ہے ۔ بجلی آٹے کی مسلسل فراہمی میں کمی کا معاملہ ہو تو عوامی حقوق کی بات سمجھ آتی ہے لیکن کسی بھی ریاست میں سستا آٹا اور سستی بجلی کی کوئی تحریک نہیں ہوتی ، نہ ہی سستا آٹا اور سستی بجلی فراہمی کی ریاست ذمہ دار ہوتی ہے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:شوکت نواز میر اور اس کا ٹولہ ایکسپوز ہوچکا،بھارتی ایماء پر ریاست مخالف مہم چلا رہا ہے ،عبدالحمید لون
کشمیر ی صحافی مختار بابا نے مسئلہ کشمیر کو نقصان پہنچانے کی مذموم سازش بے نقاب کردی، ان کا کہنا تھا کہ عوامی ایکشن کمیٹی کے بیانات انتہائی مضحکہ خیز ہیں،یہ بیرونی فورسز سے کیا مراد لیتے ہیں۔
آئین میں ترمیم کریں اور آئین میں ترمیم ہوسکتی ہیں ، عوامی ایکشن کمیٹی نے ایک بہت بڑے جوتے میں اپنا پائوں رکھ لیا ہے ۔لوگوں کو بتایا جارہا ہے کہ الیکشن ریفارمز ہونے چاہیں،




