مظفرآباد میں دفعہ 144 نافذ:4 سے زائد افراد کے اکٹھے ہونے پر مکمل پابندی

آزاد جموں و کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں امن و امان کی مجموعی صورتحال کے پیشِ نظر ضلعی انتظامیہ نے فوری طور پر پندرہ دن کیلئے دفعہ 144 نافذ کر دی ہے۔ ڈپٹی کمشنر مظفرآباد کے مطابق شہر بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد 4 سے زائد افراد کے ایک جگہ اکٹھے ہونے پر مکمل پابندی عائد ہوگی اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

تفصیلات کے مطابق آزاد کشمیر اور بالخصوص مظفرآباد میں سیکیورٹی کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے، جس کی بنیادی وجہ حکومت کی طرف سے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم تنظیم قرار دیا جانا ہے۔ تنظیم کی جانب سے 9 جون کو دی جانے والی احتجاجی کال کے معاملے پر آزاد کشمیر بھر میں انٹرنیٹ سروس آج بھی مکمل طور پر معطل ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مہاجرین نشستیں: صدارتی ریفرنس پر سپریم کورٹ کا فیصلہ سامنے آگیا

ذرائع کے مطابق ایکشن کمیٹی کی اپیل کے برعکس آج آزاد کشمیر کے زیادہ تر علاقوں میں لاک ڈاؤن نہیں ہو سکا اور زندگی معمول کے مطابق رہی، تاہم پونچھ کے مختلف بازاروں کو آج بند دیکھا گیا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے اب تک مختلف مقامات سے کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے متعدد رہنماؤں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

مظفرآباد شہر میں امن و امان کی صورتحال کو قابو میں رکھنے اور شہریوں میں احساسِ تحفظ پیدا کرنے کے لیے رات گئے پولیس کی جانب سے شہر کے مختلف حصوں میں فلیگ مارچ کیا گیا۔ دوسری جانب وادی کی اس ابھرتی ہوئی سیاسی و سیکیورٹی صورتحال پر پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت انتہائی متحرک ہے۔ گزشتہ روز پی پی پی کے دو اہم اجلاس منعقد ہو چکے ہیں، جبکہ آج بھی صورتحال پر گہرائی سے غور کرنے کے لیے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ایک اور اہم اجلاس طلب کر رکھا ہے۔

مزید پڑھیں: پشاورہائیکورٹ:افسران کو مفت بجلی سہولت معطل کئے جانے کا حکومتی نوٹیفکیشن معطل