پاک فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے عید الاضحیٰ ضلع ژوب اور مغربی سرحدوں پر تعینات اگلے مورچوں پر فوجی جوانوں کے ساتھ منائی اور اس عزم کا اظہار کیا کہ دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کا بھی خاتمہ کیا جائے گا۔
بدھ کو عیدالاضحیٰ کے اس پرمسرت موقع پر انہوں نے وطنِ عزیز کی سرحدوں کی حفاظت پر مامور افسران اور جوانوں کے ساتھ عید منائی، جس کا مقصد مشکل ترین جغرافیائی حالات میں فرائض سرانجام دینے والے جوانوں کے حوصلے بلند کرنا تھا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ’انٹر سروسز پبلک ریلیشنز‘ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق فیلڈ مارشل نے اگلے مورچوں پر موجود جوانوں کے ہمراہ عید کی نماز ادا کی۔
یہ بھی پڑھیں: آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر، نیول چیف اور ایئر چیف کا قوم کو عید کا پیغام، ملکی دفاع اور قومی یکجہتی کے عزم کا اعادہ
نمازِ عید کے بعد افسران اور جوانوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے دشمن کے ناپاک عزائم کے سامنے سینہ سپر فوجیوں کے بلند حوصلے، پیشہ ورانہ مہارت اور دہشتگردی کے خلاف ان کے غیر متزلزل عزم کو دل کھول کر سراہا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق اپنے دورے کے دوران فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کوئٹہ میں ہونے والے حالیہ دہشت گردانہ حملے کا خاص طور پر ذکر کیا۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ ’کوئٹہ میں حالیہ دہشتگرد حملے کا اصل مقصد قوم کے حوصلے پست کرنا تھا، تاہم ہمارے دشمن یہ بھول گئے ہیں کہ پاکستانی افواج اور غیور قوم کا عزم اب پہلے سے بھی زیادہ مضبوط ہو چکا ہے‘۔
فیلڈ مارشل نے دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے اس بات کا اعادہ کیا کہ ملک دشمن عناصر کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ‘دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کا ہر سطح پر تعاقب جاری رہے گا‘ اور ملک میں پائیدار امن و استحکام کے قیام کے لیے سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں بلا تعطل اور مسلسل جاری رہیں گی، جب تک آخری دہشت گرد کا خاتمہ نہیں ہو جاتا۔ ضلع ژوب اور پاکستان کی مغربی سرحدیں (پاک–افغان بارڈر) طویل عرصے سے سیکیورٹی کے لحاظ سے انتہائی حساس رہی ہیں۔ حالیہ مہینوں میں کالعدم تنظیموں کی جانب سے بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے سرحدی علاقوں میں دہشتگردانہ کارروائیوں میں تیزی دیکھنے میں آئی ہے، جس کا تازہ ترین ثبوت کوئٹہ میں ہونے والا بزدلانہ حملہ تھا۔
واضح رہے کہ عید جیسے تہواروں پر جہاں پوری قوم اپنے گھروں میں خوشیاں منا رہی ہوتی ہے، عسکری قیادت کا اگلے مورچوں پر جانا ایک دیرینہ اور مخلصانہ روایت رہی ہے۔ فیلڈ مارشل کا یہ دورہ اس بات کا ثبوت ہے کہ عسکری قیادت سرحدوں پر موجود آخری سپاہی کے ساتھ کھڑی ہے اور مغربی سرحدوں پر جاری ‘انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز‘ کی نگرانی براہِ راست اعلیٰ ترین سطح پر کی جا رہی ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے اس دورے اور بیان کے کئی اہم اسٹریٹجک پہلو ہیں جن میں ‘دہشتگردوں اور سہولت کاروں‘ کو واضح پیغام دینا شامل ہے۔
مزید پڑھیں: عیدالاضحیٰ کے موقع پر ملک کی سیاسی و حکومتی شخصیات نے مختلف شہروں میں عید کی نماز ادا کی
فیلڈ مارشل نے صرف دہشتگردوں کا ذکر نہیں کیا بلکہ ‘سہولت کاروں‘ کا بھی خاص طور پر نام لیا۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پاک فوج اب صرف گولی چلانے والے کے خلاف نہیں، بلکہ عسکریت پسندوں کو مالی، نظریاتی یا لاجسٹک سپورٹ فراہم کرنے والے نیٹ ورکس (چاہے وہ سرحد پار ہوں یا ملک کے اندر) کے خلاف بھی زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر گامزن ہے۔ دہشت گردی کا بنیادی مقصد خوف پھیلانا اور عوام و اداروں کے حوصلے توڑنا ہوتا ہے۔ فیلڈ مارشل نے کوئٹہ حملے کا حوالہ دے کر دشمن کی اس ‘نفسیاتی جنگ‘ کو ناکام بنا دیا اور یہ پیغام دیا کہ حملوں سے قوم مرعوب ہونے کے بجائے مزید متحد ہو رہی ہے۔ عید کے دن اپنے خاندانوں سے دور تپتے اور دشوار گزار پہاڑوں پر ڈیوٹی دینے والے جوانوں کے لیے عسکری قیادت کی موجودگی کسی بڑے اعزاز سے کم نہیں ہوتی، جس سے فرنٹ لائن پر لڑنے والی فورسز کا جذبہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔




