خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بروقت اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردی اور تباہی کا ایک بہت بڑا منصوبہ ناکام بنا دیا ہے۔ میرانشاہ روڈ کے قریب نصب کیا گیا بھاری وزنی ریموٹ کنٹرول بم قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوری طور پر ناکارہ بنا کر ضلع کو کسی بڑی ممکنہ تباہی سے محفوظ رکھ لیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق، یہ سیکیورٹی الرٹ تھانہ کینٹ کی حدود میں اس وقت سامنے آیا جب گل زمان مسجد اور بنوں میرانشاہ روڈ کے قریبی علاقے میں ایک مشکوک الیکٹرانک ڈیوائس کی موجودگی کا انکشاف ہوا۔ پولیس حکام کو جیسے ہی میرانشاہ روڈ کے پاس بارودی مواد اور ریموٹ کنٹرول بم نصب ہونے کی خفیہ اطلاع ملی، تو پولیس کی بھاری نفری نے بغیر کسی تاخیر کے فوری ایکشن لیتے ہوئے متعلقہ جگہ کو اپنے گھیرے میں لے لیا۔
یہ بھی پڑھیں: بنوں ، جانی خیل میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن، 4 خوارج واصل جہنم، ایک شدیدزخمی
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ خطرے کی سنگینی کو بھانپتے ہوئے جائے وقوعہ پر فوری طور پر بم ڈسپوزل اسکواڈ (BDS) کو طلب کر لیا گیا تھا۔ اسکواڈ کے ماہر اہلکاروں نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر تلاشی لی تو وہاں 10 کلو گرام وزنی انتہائی خطرناک ریموٹ کنٹرول بم نصب پایا گیا۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ نے اپنی پیشہ ورانہ مہارت اور جدید ترین تیکنیکی آلات کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس آئی ای ڈی کو کامیابی کے ساتھ اور محفوظ طریقے سے ڈفیوز کر دیا۔
بم کو ناکارہ بنائے جانے کے بعد پولیس کی جانب سے قریبی رہائشی اور تجارتی علاقوں کو مکمل طور پر سیل کر کے سرچ آپریشن کا آغاز کر دیا گیا ہے تاکہ ارد گرد کی سیکیورٹی کو یقینی بنایا جا سکے۔ پولیس حکام نے اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عزم ظاہر کیا کہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے جس کے لیے قانون نافذ کرنے والے ادارے چوبیس گھنٹے ہائی الرٹ ہیں۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عمل جاری رکھا جائے گا اور شرپسندوں کو ان کے ناپاک عزائم میں کبھی کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔




