ٹرمپ انتظامیہ نے امریکا میں مستقل رہائش (گرین کارڈ) کے حصول کے لیے نئے اور سخت ضوابط متعارف کروا دیے ہیں جن کا مقصد امیگریشن کے عمل کو مزید پیچیدہ بنانا ہے۔ ان نئی گائیڈ لائنز کے تحت اب درخواست گزاروں کو عمومی طور پر امریکا میں مقیم رہ کر اسٹیٹس تبدیل کرانے کے بجائے اپنے ملک سے درخواست دینا ہوگی۔
امریکی شہریت اور امیگریشن سروسز (USCIS) کے مطابق، وہ غیر ملکی افراد جو امریکا میں مستقل رہائش یا گرین کارڈ حاصل کرنے کے خواہشمند ہیں، انہیں اب لازمی طور پر امریکی محکمہ خارجہ کے ذریعے امریکا کی حدود سے باہر رہ کر ہی اپنی درخواستیں جمع کرانی ہوں گی۔ اس سے قبل بہت سے لوگ عارضی ویزے پر امریکا آکر وہاں سے اپنا اسٹیٹس تبدیل کرانے کی کوشش کرتے تھے، مگر اب یہ عمل تقریباً ناممکن بنا دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش : ٹرمپ‘ نامی بھینسا سوشل میڈیا اسٹار بن گیا
نئی پالیسی میں واضح کیا گیا ہے کہ صرف ان حالات میں رعایت دی جائے گی جو انتہائی غیر معمولی نوعیت کے ہوں گے۔ یو ایس سی آئی ایس کے حکام کا کہنا ہے کہ اسٹیٹس کی ایڈجسٹمنٹ کی درخواست صرف مخصوص کیسز میں ہی قبول کی جائے گی، بصورت دیگر تمام نان امیگرینٹس کو اپنے وطن واپس جانا پڑے گا۔ اس اقدام کا مقصد امیگریشن سسٹم میں موجود ان راستوں کو بند کرنا ہے جنہیں انتظامیہ غیر ضروری سمجھتی ہے۔
یو ایس سی آئی ایس کے ترجمان زیک کاہلر نے اپنے بیان میں دوٹوک موقف اختیار کیا ہے کہ امریکا میں عارضی طور پر رہائش پذیر غیر ملکی، جو مستقل سکونت چاہتے ہیں، وہ اب اپنے ملک واپس جائیں اور وہاں سے قانونی عمل کا آغاز کریں۔ ان نئی گائیڈ لائنز کی زد میں خاص طور پر بین الاقوامی طلبہ، عارضی ورکرزاور سیاح آئیں گے جن کے لیے اب اندرونِ ملک ویزا تبدیلی مشکل ہو جائے گی۔
مزید پڑھیں: ایران جنگ میں اختلافات، قومی انٹیلی جنس ڈائریکٹر تلسی گیبارڈ مستعفی
اس فیصلے سے ان لاکھوں افراد کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے جو پہلے سے عارضی ویزوں پر امریکا میں موجود ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اس پالیسی سے نہ صرف درخواست گزاروں کے اخراجات میں اضافہ ہوگا بلکہ گرین کارڈ کے حصول کا وقت بھی مزید طویل ہو جائے گا۔ انتظامیہ کا یہ اقدام ان کی سخت گیر امیگریشن پالیسی کا حصہ ہے جس کے تحت ملک میں قانونی تارکینِ وطن کی آمد کو بھی محدود کیا جا رہا ہے۔




