صوبائی دارالحکومت لاہور میں آئندہ بجٹ کی آمد سے قبل ہی مہنگائی کے بڑھتے ہوئے اثرات نے شہریوں کی معاشی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے، جہاں آٹے کی قیمتوں میں اچانک ہونے والے اضافے نے عام آدمی کی پریشانیوں کو بڑھا کر رکھ دیا ہے۔ روزمرہ استعمال کی بنیادی اشیائے خوردونوش کی قیمتیں پہلے ہی آسمان سے باتیں کر رہی ہیں، جبکہ اب آٹے کے حالیہ نرخ گھریلو بجٹ پر اضافی بوجھ بن گئے ہیں۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق، مارکیٹ میں اس وقت نجی آٹا کمپنیوں کی جانب سے 5 کلو آٹے کا تھیلا 850 روپے کی بلند ترین سطح پر فروخت کیا جا رہا ہے، جسے شہریوں نے اپنی قوتِ خرید سے بالکل باہر قرار دے دیا ہے۔ دوسری جانب اگر سرکاری نرخوں کی بات کی جائے تو اس وقت مارکیٹ میں 10 کلو آٹے کا تھیلا 1100 روپے جبکہ 20 کلو آٹے کا تھیلا 2200 روپے کی قیمت پر دستیاب ہے۔ قیمتوں کے اس بے لگام اضافے نے متوسط اور غریب طبقے کی زندگی کو شدید طور پر متاثر کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ملک میں مہنگائی کی شرح میں ہفتہ وار 4.07 فیصد اضافہ، آٹا، چینی، ایل پی جی اور دالوں کی قیمتوں میں کمی
مختلف شہریوں کا کہنا ہے کہ موجودہ معاشی حالات اور مہنگائی کے اس پِیسے ہوئے دور میں گھریلو اخراجات کو پورا کرنا پہلے ہی ایک بہت بڑا چیلنج بن چکا ہے، جبکہ آٹے جیسی انتہائی بنیادی اور لازمی ضرورت کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ان کے لیے مزید سنگین مشکلات پیدا کر رہا ہے۔ متعدد شہریوں نے دہائی دیتے ہوئے شکایت کی ہے کہ آمدن محدود ہونے کے باعث اب خاندان کے لیے معیاری خوراک کا حصول بھی خواب بنتا جا رہا ہے۔
عوامی حلقوں نے حکومتِ وقت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ آٹے کی قیمتوں پر فوری کنٹرول کیا جائے اور ان میں نمایا کمی لا کر عام آدمی کو ریلیف فراہم کیا جائے۔ شہریوں کے مطابق موجودہ صورتحال میں اتنا مہنگا آٹا غریب آدمی کے بس سے بالکل باہر ہو چکا ہے اور اگر قیمتوں میں کمی کے لیے فوری اقدامات نہ کیے گئے تو عوام کی مشکلات مزید تشویشناک حد تک بڑھ جائیں گی۔ دوسری جانب معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ بجٹ سے قبل مہنگائی کا یہ بڑھتا ہوا دباؤ حکومت کے لیے بھی ایک بہت بڑا امتحان بنتا جا رہا ہے۔



