تحریر۔ عبدالصبور اعوان
وادی لیپہ، جسے فطرت نے اپنے حسن کے تمام رنگوں سے نوازا ہے، واقعی “جنت النظیر” کہلانے کی حقدار ہے۔ بلند و بالا پہاڑ، گھنے جنگلات، ٹھنڈے اور میٹھے پانی کے چشمے—یہ منظر دل کو موہ لیتا ہے۔ 45 ہزار سے زائد نفوس پر مشتمل یہ وادی نہ صرف قدرتی حسن کا مرقع ہے بلکہ اپنے باسیوں کی محبت اور مہمان نوازی کے لیے بھی مشہور ہے۔
مگر اس جنت کے دامن پر محرومیوں کے داغ بھی اتنے ہی پرانے ہیں۔ وادی لیپہ کے مسائل عرصہ دراز سے حل طلب ہیں، اور افسوس کہ آج تک ان پر سنجیدگی سے توجہ نہیں دی گئی۔ اگر الیکشن میں کیے گئے وعدوں پر محض 50 فیصد بھی عمل ہو جاتا تو شاید آج یہاں کے باسی بنیادی سہولیات کے لیے ترس نہ رہے ہوتے۔

حقیقت یہ ہے کہ وادی میں جو تھوڑی بہت سہولیات میسر ہیں، ان کے پیچھے پاک فوج کا کردار نمایاں ہے۔ صحت کے مسائل ہوں، تعلیم کا فقدان ہو، یا قدرتی آفات کی آزمائش—ہر موقع پر پاک فوج ہی لیپہ کی عوام کے لیے مسیحا بن کر سامنے آئی ہے۔ اسکولوں کی عمارتیں، طبی کیمپس، سڑکوں کی بحالی—سب میں فوج کا ہاتھ نظر آتا ہے۔ لیکن یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ ایک ریاست کے شہریوں کی بنیادی ذمہ داری کیا ہمیشہ فوج ہی نبھاتی رہے گی؟
سیاست دانوں کی بات کریں تو انہوں نے اس خوبصورت وادی کے لوگوں کو ایک نہیں، دو ٹنل کے خواب دکھائے۔ مگر عملی طور پر صورتحال یہ ہے کہ وادی لیپہ کو تحصیل بنے 18 سال بیت گئے، مگر تحصیل کے دفاتر آج بھی نامکمل ہیں۔ دورِ جدید میں بھی یہاں کے لوگ بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ اب ایک بار پھر الیکشن کا دنگل سجنے کو ہے۔ پھر وہی پرانے اور کچھ نئے چہرے سامنے آئیں گے، پھر دودھ کی نہریں بہانے کے سپنے دکھائے جائیں گے۔
اگر وفاق کی جانب سے کشمیر کو ملنے والے بجٹ کا نصف بھی زمین پر خرچ ہو جائے تو آزاد کشمیر کا منظر ہی بدل جائے۔ لوگ سیاحت کے لیے سوئٹزرلینڈ کا رخ نہ کرتے، بلکہ اپنی ہی وادیوں کی طرف آتے۔ اس سے نہ صرف روزگار کے مواقع پیدا ہوتے بلکہ مقامی معیشت بھی مضبوط ہوتی۔ مگر صد افسوس کہ جو تقریں الیکشن کے موسم میں سننے کو ملتی ہیں، اگر ان پر عمل ہو جائے تو بات ہی کچھ اور ہو۔
وادی لیپہ کو نعروں کی نہیں، عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ سڑک، صحت، تعلیم، اور سیاحت کے فروغ کے لیے ایک مربوط منصوبہ بندی وقت کا تقاضا ہے۔ اگر آج بھی ہم نے آنکھیں نہ کھولیں تو یہ جنت النظیر محرومیوں کی وادی ہی بنی رہے گی۔




