آئی ایم ایف

آئی ایم ایف کی پاکستانی معیشت پر مثبت رپورٹ مگر خطرے کی گھنٹی بھی بجا دی

عالمی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف) نے پاکستان کی معیشت سے متعلق اپنی تازہ جائزہ رپورٹ میں کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے کیے گئے مضبوط اور تسلسل کے ساتھ جاری رہنے والے پالیسی اقدامات نے نہ صرف معاشی بحالی کے عمل کو مستحکم کیا بلکہ بیرونی معاشی جھٹکوں کے مقابلے میں ملک کی مزاحمتی صلاحیت کو بھی بہتر بنایا ہے ۔

آئی ایم ایف نے یہ مشاہدات پاکستان کیلئے توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) کے تحت تیسرے جائزے اور لچک و پائیداری سہولت کے دوسرے جائزے کی رپورٹ میں پیش کیے ۔ رپورٹ کے مطابق مالی سال 2026 کی پہلی ششماہی کے دوران پاکستان کی معاشی کارکردگی توقعات سے بہتر رہی ۔

مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو میں تیزی دیکھی گئی جبکہ مہنگائی کو بھی قابو میں رکھنے میں پیش رفت ہوئی ۔ اسی طرح کرنٹ اکاؤنٹ مجموعی طور پر متوازن رہا اور زرمبادلہ کے ذخائر کی بحالی بھی سابق اندازوں سے بہتر ثابت ہوئی ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:پاکستان نے معاشی استحکام برقرار رکھا، آئی ایم ایف،1.1ارب ڈالر قسط کی منظوری دیدی

آئی ایم ایف نے اپنی رپورٹ میں اس بات پر زور دیا کہ حکومتی اصلاحاتی اقدامات اور سخت معاشی نظم و ضبط نے معیشت میں استحکام پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا ۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ ان پالیسیوں کی بدولت پاکستان کی معیشت بیرونی دباؤ کا سامنا کرنے کے لیے پہلے سے زیادہ مضبوط ہوئی ہے ۔

تاہم عالمی مالیاتی ادارے نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کو پاکستان کیلئے ایک بڑا خطرہ قرار دیا ہے ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خطے میں جاری تنازع نے پاکستان کے قلیل مدتی معاشی منظرنامے کو غیر یقینی بنا دیا ہے اور یہ واضح نہیں کہ آنے والے مہینوں میں معاشی حالات کس سمت جائیں گے ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:200 یونٹ تک سبسڈی ختم،حکومت کی آئی ایم ایف کو یقین دھانی

آئی ایم ایف کے مطابق بنیادی خدشہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال مہنگائی پر مزید دباؤ ڈال سکتی ہے، جس سے معاشی نمو اور ادائیگیوں کے توازن پر منفی اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے ۔ اگرچہ مجموعی اثرات کو محدود قرار دیا گیا ہے، تاہم ادارے نے خبردار کیا ہے کہ منفی خطرات بدستور زیادہ ہیں ۔