روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی اپنی بزرگ استانی کے ساتھ عقیدت اور احترام کی ایک دلکش ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے، جس نے دنیا بھر میں استاد کے مرتبے کو اجاگر کر دیا ہے۔ دوسری جانب صدر پیوٹن نے یوکرین جنگ کے خاتمے کے حوالے سے بھی اہم بیان جاری کیا ہے۔
ماسکو سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق، روسی صدر پیوٹن نے عہدے اور پروٹوکول کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنی استانی کے لیے گہری محبت اور احترام کا اظہار کیا ہے۔ پیوٹن خود گاڑی ڈرائیو کر کے اپنی استانی کو لینے پہنچے، انہیں گلدستہ پیش کیا اور بڑی عقیدت سے گلے ملے۔
ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ صدر پیوٹن نے اپنی بزرگ ٹیچر کو خود گاڑی میں بیٹھنے میں مدد کی اور پھر انہیں اپنے ساتھ صدارتی محل لے گئے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ان ویڈیوز کو صارفین کی جانب سے بہت سراہا جا رہا ہے، جہاں صدر پیوٹن ایک طاقتور عالمی رہنما کے بجائے ایک فرمانبردار شاگرد کے روپ میں نظر آئے۔
یہ بھی پڑھیں: صدر پاکستان کی روس کے صدر پیوٹن اور روسی عوام کو یومِ فتح پر مبارکباد
ماسکو میں یومِ فتح کی تقریب کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے روسی صدر پیوٹن نے یوکرین کے ساتھ جاری طویل تنازع کے خاتمے کا اشارہ دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں یوکرین کا معاملہ اب ایک نتیجے کی جانب بڑھ رہا ہے اور یہ تنازع جلد اپنے اختتام کو پہنچ سکتا ہے۔
صدر پیوٹن نے انکشاف کیا کہ چیکو سلوواکیہ کے وزیراعظم نے انہیں بتایا ہے کہ یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی اب آمنے سامنے ملاقات کے لیے تیار ہیں۔ پیوٹن کے اس بیان کو عالمی سطح پر جنگ بندی کی جانب ایک بڑی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس سے خطے میں دیرپا امن کی امیدیں وابستہ ہو گئی ہیں۔
روسی صدر نے یوکرینی ہم منصب سے ملاقات کو ایک شرط سے مشروط کرتے ہوئے کہا کہ وہ صدر زیلنسکی سے صرف اس صورت میں مل سکتے ہیں جب ایک دیرپا اور مستحکم امن معاہدہ طے پا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ محض ملاقات کافی نہیں بلکہ ٹھوس نتائج کا ہونا ضروری ہے۔
مزید پرھیں: روس ایران کیساتھ ہے: پیوٹن کا بلامشروط ایران کی حمایت کا اعلان
پیوٹن نے اپنی گفتگو کے دوران دیگر علاقائی مسائل پر بھی بات کی اور امید ظاہر کی کہ ایرانی تنازع بھی جلد سے جلد اپنے منطقی انجام کو پہنچے گا۔ روس کی جانب سے ان مثبت اشاروں نے عالمی سفارتی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ آیا دنیا ایک بڑے جنگی بحران سے نکلنے کے قریب ہے۔
🚨BIG NEWS
Western media was claiming Russian President #VladimirPutin was “hiding from the public”.
Meanwhile, Putin greeted his old German teacher with flowers and a hug.
He personally drove her to the Kremlin for dinner 💖 pic.twitter.com/It1hFRjoWx
— Amitabh Chaudhary (@MithilaWaaala) May 12, 2026




