جنگ بندی ختم ہونے پر روس کا یوکرین پر بڑا حملہ،6افراد ہلاک

روس اور یوکرین کے درمیان3 روزہ جنگ بندی ختم ہوتے ہی روس نے یوکرین پر کم از کم 800 ڈرونز سے حملہ کر دیا۔

یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے ٹیلی گرام پر جاری بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ بدھ کے روز روس نے دن بھر میں 800 ڈرونز لانچ کیے۔

یہ بھی پڑھیں:صدر پاکستان کی روس کے صدر پیوٹن اور روسی عوام کو یومِ فتح پر مبارکباد

زیلنسکی نے کہا کہ روس کی جانب سے دارالحکومت کیف، پولینڈ کی سرحد کے قریب مغربی شہر لیوو اور بحیرۂ اسود کی بندرگاہ سمیت دیگر علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔

یوکرینی صدر کے مطابق یوکرین بھر میں روسی ڈرون حملوں میں کم از کم 6 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے۔

زیلنسکی نےکہا کہ ہمارے فوجی یوکرین کا دفاع کر رہے ہیں، لیکن روس کا واضح مقصد فضائی دفاعی نظام پر بوجھ ڈالنا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ڈرون حملوں کے بعد کروز اور بیلسٹک میزائل حملے بھی ہو سکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق روس نے نیٹو ملکوں کے ساتھ یوکرین کی سرحد کے قریب مغربی علاقوں کو بھی نشانہ بنایا ۔

غیر ملکی رپورٹس کےمطابق روس نے یوکرین کے انتہائی مغربی خطے زاکارپاتیا کو بھی نشانہ بنایا، جو سلوواکیہ کی سرحد پر واقع ہے۔ سلوواکی حکومت نے کہا کہ وہ ’’سکیورٹی وجوہات‘‘ کی بنا پر زمینی سرحدی کراسنگ کو غیر معینہ مدت کے لیے بند کر رہی ہے۔

ادھر روس میں حکام کا کہنا ہے کہ بدھ کی صبح تک یوکرینی ڈرونز نے 3 صنعتی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔

یہ بھی پڑھیں:روس اور یوکرین کے درمیان 3 روزہ جنگ بندی ، امریکی صدر نے اعلان کردیا

واضح رہے کہ یہ تازہ ترین حملے اس کے فوراً بعد سامنے آئے جب امریکا کی ثالثی میں طے پانے والی 3 روزہ جنگ بندی پیر کی رات ختم ہو گئی۔

جنگ بندی کے دوران روس اور یوکرین دونوں نےزیادہ تر طویل محاذِ جنگ کے ساتھ متعدد خلاف ورزیوں کی اطلاع دی تھی ، تاہم کوئی بڑا فضائی حملہ رپورٹ نہیں ہوا۔

Scroll to Top