برطانیہ

کشمیری نژاد شبانہ محمود نئے برطانوی وزیراعظم کیلئے مضبوط امیدوار قرار

برطانیہ میں ہونے والے بلدیاتی الیکشن کے غیر متوقع نتائج نے ملک میں ایک نیا سیاسی بحران پیدا کردیا جس میں وزیراعظم کیئر اسٹارمر سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق حکمراں جماعت کی مقامی انتخابات میں بدترین شکست کے بعد حکمراں جماعت کے متعدد ارکان مستعفی ہوگئے اور وزیراعظم سے بھی اعتماد کا ووٹ لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر کیخلاف لیبر پارٹی میں بغاوت،شبانہ محمود نے بھی مشورہ دیدیا

تاحال برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے استعفیٰ دینے سے متعلق اپنا مؤقف پیش نہیں کیا ہے لیکن 80 فیصد سے زائد ارکان کے دباؤ کے باعث حکمراں جماعت نے مبینہ طور پر کسی نئے امیدوار کی تلاش بھی شروع کردی۔

برطانیہ کے نئے وزیراعظم کے لیے کابینہ کے جن ارکان کا نام لیا جا رہا ہے ان میں کشمیری نژاد شبانہ محمود دوڑ میں سب سے آگے نظر آتی ہیں۔ اگر وہ منتخب ہوگئیں تو نہ صرف پہلی پاکستانی نژاد بلکہ برطانیہ کی پہلی مسلم وزیراعظم بھی ہوں گی۔

تاہم اب بھی 100 کے قریب لیبر پارٹی کے ارکان وزیراعظم کیئر اسٹارمر کی حمایت میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ آنے والے چند دنوں میں اس سے متعلق بڑی پیشرفت سامنے آنے کا امکان ہے۔

یہ بھی پڑھیں: امیگریشن سسٹم میں خامیاں دور کرنا ترجیح، والدین کے آزادکشمیر سے تعلق پر فخر ہے، شبانہ محمود

گزشتہ دنوں کشمیری نژاد برطانوی وزیر داخلہ شبانہ محمود نے بھی وزیراعظم کیئر اسٹارمر کو مشورہ دیا تھا کہ وہ استعفیٰ کیلئے ٹائم لائن دیںلیکن دبائو کے باوجود وزیراعظم نے استعفیٰ دینے سے انکار کردیا تھا اور مستعفی ہونیوالے وزراء کی جگہ نئے ممبران کو نامزد کردیا تھا۔

یاد رہے کہ شبانہ محمود کے والدین کا تعلق میرپور آزادکشمیرسے ہے جبکہ ان کی پیدائش برطانیہ میں ہی ہوئی ہے،گزشتہ دنوں نے انہوں نے والدین کے کشمیر سے تعلق ہونے پر فخر کااظہار کیا تھا۔

Scroll to Top