ڈھاکہ: بنگلہ دیش کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ کے دوسرے روز تجربہ کار فاسٹ باؤلر محمد عباس کی تباہ کن باؤلنگ اور نوآموز بلے بازوں کی پراعتماد کارکردگی کی بدولت پاکستان نے میچ پر اپنی گرفت مضبوط کر لی ہے۔ محمد عباس نے بنگلہ دیشی بیٹنگ لائن کو سنبھلنے کا موقع نہ دیا اور اہم وکٹیں حاصل کر کے میزبان ٹیم کو بڑے مجموعے سے روکنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
محمد عباس نے شاندار باؤلنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 92 رنز کے عوض 5 کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی، جو ان کے ٹیسٹ کیریئر کا چھٹا موقع ہے جب انہوں نے ایک اننگز میں پانچ وکٹیں حاصل کیں۔ ان کی اس تباہ کن باؤلنگ کی بدولت بنگلہ دیشی اننگز 413 رنز پر محدود ہو گئی۔ میزبان ٹیم کی جانب سے تجربہ کار بلے باز مشفقور رحیم نے اپنی 39 ویں سالگرہ کے موقع پر 71 رنز کی عمدہ اننگز کھیل کر ٹیم کو سہارا دینے کی کوشش کی، تاہم وہ اپنی ٹیم کو بہت بڑے اسکور تک نہ پہنچا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: وہ صف جس میں دل، قدم اور ارادے ایک ہوں اللہ اسے پسند کرتا ہے: شاہد آفریدی
اذان اویس اور عبداللہ فضل کی شاندار بلے بازی:
بنگلہ دیش کے 413 رنز کے جواب میں پاکستانی اوپنرز نے پراعتماد آغاز فراہم کیا۔ اوپنر امام الحق 45 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، جس کے بعد اپنا پہلا ٹیسٹ میچ کھیلنے والے اذان اویس نے کریز پر قدم جمائے اور بنگلہ دیشی باؤلرز کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ اذان اویس نے دباؤ کو مہارت سے سنبھالتے ہوئے 85 رنز کی ناقابلِ شکست اننگز کھیلی، جبکہ ان کا ساتھ دینے والے دوسرے ڈیبیو کھلاڑی عبداللہ فضل 37 رنز کے ساتھ کریز پر موجود ہیں۔
دوسرے دن کا اختتام اور پاکستان کی صورتحال:
دوسرے دن کے اختتام تک پاکستان نے ایک وکٹ کے نقصان پر 179 رنز بنا لیے ہیں اور اسے بنگلہ دیش کی پہلی اننگز کا خسارہ ختم کرنے کے لیے مزید 234 رنز درکار ہیں۔ امام الحق نے دن کے اختتام پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محمد عباس کی تجربہ کاری اور نوجوان بلے بازوں اذان اویس اور عبداللہ فضل کے حوصلے کی بھرپور تعریف کی۔ پاکستانی کیمپ میں نوجوان کھلاڑیوں کی اس کارکردگی سے کافی جوش و خروش پایا جاتا ہے اور امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ تیسرے روز پاکستانی بلے باز اپنی پوزیشن مزید مستحکم کرنے میں کامیاب ہوں گے۔



