وفاقی حکومت نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کے انتظامی ڈھانچے میں ممکنہ تبدیلی پر سنجیدگی سے غور شروع کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں وفاقی وزیر کھیل داس کوہستانی کا کہنا ہے کہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے تناظر میں سماجی امداد کے بعض پروگراموں کو صوبائی سطح پر منتقل کیا جا سکتا ہے۔
وفاقی وزیر داس کوہستانی کے مطابق چونکہ اٹھارویں ترمیم کے بعد زیادہ تر اختیارات صوبوں کے پاس ہیں، اس لیے امدادی رقوم کی تقسیم میں بھی صوبوں کا کردار بڑھانے پر غور کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس اہم معاملے پر تمام سیاسی جماعتوں اور اتحادی شراکت داروں سے بھرپور مشاورت کی جائے گی۔ حکومت کا مقصد کسی بھی حتمی فیصلے کو باہمی اتفاق رائے سے پروان چڑھانا ہے تاکہ مستقبل میں کسی قسم کی سیاسی یا انتظامی پیچیدگی پیدا نہ ہو۔
یہ بھی پڑھیں: بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ڈائنامک سروے میں اندراج کا طریقہ کار جاری
پروگرام کی بہتری اور شفافیت کا عزم:
حکومتی سطح پر یہ بات دو ٹوک انداز میں کہی گئی ہے کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنے کی کوئی تجویز زیرِ غور نہیں ہے۔ وفاقی وزیر نے اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ حکومت کا اصل مقصد اس نظام کو مزید مؤثر، بہتر اور شفاف بنانا ہے۔ انتظامی تبدیلیوں کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ مستحق افراد تک امدادی رقم کی رسائی کو یقینی بنایا جا سکے اور نظام میں موجود خامیوں کو دور کیا جا سکے۔
مستقبل کے حوالے سے پالیسی سازی:
حکومتی ذرائع کے مطابق پروگرام کے مستقبل اور اس کے طریقہ کار کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے مختلف آپشنز میز پر موجود ہیں۔ تاہم، ان تمام آپشنز پر حتمی فیصلہ وسیع تر مشاورت اور پالیسی سازی کے عمل کے بعد ہی کیا جائے گا تاکہ سماجی تحفظ کے اس سب سے بڑے نیٹ ورک کو عوامی مفاد میں بہترین طریقے سے استعمال کیا جا سکے۔




