نورین عارف پر بزرگ خاتون کے سنگین الزامات پر ہلچل، پولیس،خان ہائوس کا ردعمل آگیا

اسلام آباد:سابق خاتون وزیر حکومت  نورین عارف ، سابق سیکرٹری حکومت راجہ عارف کے خاندان پران کے حلقہ سے تعلق رکھنے والی ایک بزرگ خاتون نے تشدد اور3بیٹیوں کو یرغمال بنانے کے سنگین الزامات عائد کئے ہیں جس پر ہلچل مچ گئی ہے، پولیس نے ایکشن لیتے ہوئے انکوائری شروع کردی ہے جبکہ نورین عارف کے خاندان کا بھی ردعمل سامنے آگیا ہے۔

خاتون نے سنٹرل پریس کلب کے سائلین ڈیسک سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کھٹان بانڈی کوٹلہ سے تعلق رکھتی ہوں ، بچیوں کو 3سال قبل بیٹیوں کو منیر عباسی نامی شخص مظفرآباد لایا اور کہا کہ بیٹے کوملازمت دلائوں گا۔

یہ بھی پڑھیں: مسلم لیگ ن خدمت اور ترقی کی سیاست پر یقین رکھتی ہے:نورین عارف

خاتون کا کہنا تھا کہ بیٹی کی شادی تیارتھی جس پر انہوں نے بیٹی کو بھیجنے سے انکار کردیا اور بعد میں انہوں نے چوری کا الزام لگا دیا اورمجھے پولیس کے ذریعے گرفتار کرکے تشدد کرایا ، نورین عارف کا داماد تشدد کرتا رہا۔

خاتون نے الزام لگایا کہ پولیس مجھ سے کچھ بھی برآمد نہیں کرسکی، میرے مکان کی بھی تلاشی لی گئی کیونکہ میرے پاس کچھ تھا ہی نہیں اور مجھے جیل بھیج دیا گیا،میری تینوں بیٹیاں غائب ہیں، میرے بیٹے پر بھی تشدد کیا گیا ہے۔

خاتون کا کہنا تھا کہ میری اپیل ہے کہ میری بیٹیوں کو واپس دلایا جائے ، خاتون نے وزیراعظم اور آئی جی آزادکشمیر اپیل سے انصاف دلایاجائے ورنہ میں خودکشی کر لوں گی۔

بیٹیاں دوسرے گھروں میں ملازمتیں کررہیں، پولیس، 2روز میں تحقیقات کا حکم

مظفر آبادپولیس کے ترجمان نے مسمات زیتون بی بی کی جانب سے پریس کانفرنس میں لگائے گئے الزامات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ تھانہ صدر میں مسمی ذیشان عارف ولد ڈاکٹر راجہ محمد عارف نے درخواست دی تھی کہ ان کے گھر کی الماری سے چابی کے ذریعے لاک کھول کر 40 تولے طلائی زیورات (مالیتی تقریباً ایک کروڑ 80 لاکھ روپے) چوری کر لیے گئے ہیں۔

مدعی نے اپنے گھریلو ملازمین پر شک کا اظہار کیا تھا، جس پر مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کی گئی،دورانِ تفتیش جن ملازمین پر شک ظاہر کیا گیا تھا، انہیں شاملِ تفتیش کیا گیا، ان میں مسمات زیتون بی بی اور ان کی ایک بیٹی (ت) بھی شامل تھیں۔

زیتون بی بی کی جانب سے بیٹیوں کے لاپتہ ہونے کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے پولیس نے بتایا کہ تصدیق کے مطابق ان کی بیٹیاں دیگر گھروں میں بطور ملازمہ کام کر رہی ہیں اور وہاں سے تنخواہ حاصل کر رہی ہیں۔

پولیس نے زیتون بی بی کی دونوں بیٹیوں کو آج09 مئی 2026 کو بیانات قلمبند کرانے کے لیے طلب کر لیا ہے۔

پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ مسمات زیتون بی بی کی جانب سے پولیس کے خلاف تاحال کوئی تحریری شکایت موصول نہیں ہوئی تاہم، تشدد کے الزامات کے حوالے سے پولیس میرٹ پر تحقیقات کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان پولیس کو اغواء وقتل کے مقدمہ میں مطلوب 2ملزمان چناری سے گرفتار

اس سلسلے میں زیتون بی بی کے بیانات ریکارڈ کرنے اور ان کا طبی معائنہ کرانے کے لیے علیحدہ کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔

معاملے کی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے سینئر پولیس افسران کے ذریعے باقاعدہ انکوائری کا حکم دے دیا گیا ہے اور 2 ایام کے اندر مکمل رپورٹ طلب کی گئی ہے۔

پولیس کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں کسی قسم کی برآمدگی کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا ہے۔

ایک بچی جیل ،دوسری ایبٹ آبادمیں نورین عارف کی بیٹی کے پاس، تیسری سکندر حیات کی بیٹی کےپاس ہے، خان ہائوس

نورین عارف کے خاندان کی جانب سے جاری موقف میں کہا گیا ہے کہ نورین عارف کے گھر ان کی بیٹیوں کے تقریباً 40 تولہ طلائی زیورات اکتوبر/نومبر 2025 میں چوری ہوئے۔ جب دسمبر میں زیورات استعمال کے لیے چیک کیے گئے تو معلوم ہوا کہ زیورات غائب ہیں۔ مزید پڑتال پر تقریباً 40 تولہ سونا چوری ہونے کی تصدیق ہوئی۔

ابتدائی طور پر معاملے کی نجی سطح پر چھان بین کی گئی، بعد ازاں تھانہ صدر کے SHO کو موقع پر بلا کر صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ پولیس نے گھر کے مکینوں اور تمام ملازمین سے پوچھ گچھ کی۔

دورانِ تفتیش مسمات (ت) عمر 19 سال، جو نورین کی ذاتی معاون کے طور پر تنخواہ پر ان کے ساتھ رہتی تھی نے پولیس کے سامنے نہ صرف چوری کا اعتراف کیا بلکہ پولیس کو بھی موقع پر واردات کا بتایا۔

پریس ریلیز کے مطابق نورین عارف کو رات کے وقت دودھ میں نیند آور گولیاں ملا کر پلائیں تاکہ وہ گہری نیند میں چلی جائیں، اور پھر اپنے حقیقی بھائی اور کزن کے ساتھ مل کر زیورات چوری کیے، جنہیں بعد ازاں گاؤں میں اپنی والدہ کے پاس بھجوا دیا گیا۔

پولیس کو مکمل یقین ہونے کے بعد دیگر ملازمین کو چھوڑ دیا گیا جبکہ نادرا ریکارڈ کے مطابق 19 سالہ مسمات تعظیم اس کے والدین، بھائی اور بھابھی کیخلاف مقدمہ درج کیا۔

خان ہائوس کے مطابق مسمات تعظیم نے اس کے علاوہ بھی ماضی میں ہونے والی چھوٹی موٹی چوریوں کا اعتراف کیا، جن میں سونے کی انگوٹھی، انڈونیشیائی کرنسی، ڈالر، پاؤنڈ اور نقد رقم شامل تھی، جن میں سے کچھ برآمد بھی کروائی گئی۔

پریس کانفرنس کرنے والی خاتون، اس کا شوہر اور بیٹا بھی اسی مقدمے میں نامزد ملزمان ہیں۔ پریس کانفرنس کرنے والی خاتون کی ایک بیٹی، تعظیم، اسی مقدمے میں تھانہ صدر میں گرفتار ہے۔

دوسری بیٹی کو خود اس خاتون نے نورین عارف کی بیٹی کے پاس ایبٹ آباد چھوڑ رکھا ہے، جبکہ ایبٹ آباد میں موجود بیٹی نے بھی پولیس کے سامنے اپنی والدہ اور بہن کے خلاف زیورات چوری کر کے گاؤں میں چھپانے کی گواہی دی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پولیس اہلکار کا اپنے بچوں پر تشدد،اہلیہ کا آئی جی آزادکشمیر سے کارروائی کا مطالبہ

تیسری بیٹی کو کفالت کے لیے راولپنڈی میں سابق وزیراعظم مرحوم سکندر حیات خان کی صاحبزادی کے پاس چھوڑا گیا ہے۔

خان ہائوس کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ نورین عارف کی جان لینے کی کوشش بھی کی گئی ہے،ملزمہ کی بیٹی نے پولیس کے سامنے کیا کہ دودھ میں گولیاں ملا کر پلائی گئیں تاکہ متاثرہ خاتون گہری نیند میں چلی جائیں۔

پریس ریلیز میں دعویٰ کیا گیا ہے نورین عارف زیورات کی برآمدگی پرمقدمہ واپس لینے پر تیار ہیں، مخالفین عورت کارڈ کھیل رہے ہیںکیونکہ نورین عارف مسلم لیگ(ن) کے ٹکٹ کی امیدوارہیں۔

خاتون کی پریس کانفرنس اور نورین عارف کے خاندان کی جانب سے پریس ریلیز میں واضح تضاد نظر آرہا ہے اور کئی سوالات جنم لے رہے ہیں جو شفاف تحقیقات سے ہی کلیئر ہوں گے لیکن یہ واقعہ معاشرتی نظام پر بدنما داغ ضرور ہے جہاں کمسن بچیوں کو ملازم اور ان سے مشقت لی جا رہی ہے۔

یاد رہے کہ نورین عارف حلقہ کوٹلہ کے انتہائی بااثر خاندان سے تعلق رکھتی ہیں اور کئی بار ممبر اسمبلی منتخب ہوئی ہیں، ان کے شوہر راجہ عارف سیکرٹری ریٹائرڈ ہیں۔

Scroll to Top