آزاد جموں و کشمیر یونیورسٹی مظفرآباد میں ‘معرکہ حق’ کا ایک سال مکمل ہونے پر پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں مسلح افواج کی جرات اور پیشہ ورانہ مہارت کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔
یونیورسٹی آف آزاد جموں و کشمیر میں آپریشن بنیان المرصوص (معرکہ حق) کی پہلی سالگرہ کے موقع پر ایک خصوصی تقریب منعقد ہوئی۔ اس تقریب میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ناصر جمال خٹک، سابق چیف جسٹس چوہدری محمد ابراہیم ضیاء، ممتاز دانشوروں، فیکلٹی ممبران اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ شرکاء نے وطن عزیز کے دفاع میں پاک فضائیہ اور زمینی دستوں کی بے مثال خدمات کو سراہا۔
یہ بھی پڑھیں: ہم پہلے بھی بنیان مرصوص کی مانند کھڑے تھے،کھڑے رہیں گے،آئی جی لیاقت علی ملک
وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ناصر جمال خٹک نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان ایک مضبوط اور باصلاحیت ملک ہے جو اپنی سرحدوں کے دفاع کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے معاشرتی ہم آہنگی اور نظم و ضبط پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اصل طاقت اتحاد اور مشترکہ اقدار کو اپنانے میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اختلافات کے بجائے یکجہتی کو فروغ دے کر ملک کو مستحکم بنانا ہوگا۔
سابق چیف جسٹس (ر) چوہدری ابراہیم ضیاء نے شہداء کی لازوال قربانیوں کو قوم کے لیے مشعلِ راہ قرار دیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر طلعت شبیر نے واضح کیا کہ پائیدار اسٹریٹجک طاقت کا انحصار معاشی استحکام پر ہے، جبکہ انہوں نے مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کو خطے میں پائیدار امن کے لیے ناگزیر قرار دیا۔ حریت رہنما پرویز شاہ اور سمیعہ ساجد نے بھی قومی خودمختاری کے تحفظ اور نوجوانوں کے کلیدی کردار پر روشنی ڈالی۔
تقریب کے دوران طلبہ نے پرجوش ملی نغمے پیش کر کے سماں باندھ دیا، جس نے شرکاء میں حب الوطنی کا جذبہ بیدار کر دیا۔ تقریب کے اختتام پر اساتذہ اور طلبہ نے مسلح افواج سے اظہار یکجہتی کے لیے ایک ریلی بھی نکالی۔ شرکاء نے ملکی سلامتی، استحکام اور قومی یکجہتی کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے وطن عزیز کی ترقی اور خوشحالی کے لیے خصوصی دعا کی۔




