عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں بدھ کے روز 2 فیصد کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کی بنیادی وجہ امریکی ڈالر کی قدر میں کمی بتائی جا رہی ہے۔
عالمی مارکیٹ میں اسپاٹ گولڈ کی قیمت 2 فیصد اضافے کے بعد 4,647.09 ڈالر فی اونس کی سطح تک پہنچ گئی ہے۔ اسی طرح، امریکی گولڈ فیوچرز میں بھی تیزی کا رجحان رہا اور یہ بڑھ کر 4,658 ڈالر فی اونس ہو گئے ہیں۔ ماہرین اس غیر معمولی اضافے کو امریکی ڈالر کی کمزوری اور خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال سے جوڑ رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سونے کی قیمت میں مسلسل تیسرے روز کمی، خریداروں کو ریلیف
امریکہ ایران تعلقات اور عالمی اثرات:
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ امن معاہدے کی امیدوں نے مارکیٹ پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اہم بیان میں کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جہازوں کی حفاظت کے لیے جاری آپریشن کو عارضی طور پر روک دیا گیا ہے تاکہ ممکنہ معاہدے کی پیش رفت کو جگہ مل سکے۔ اسی تناظر میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی تصدیق کی ہے کہ “آپریشن ایپک فیوری” ختم کر دیا گیا ہے تاکہ مزید کشیدگی سے بچا جا سکے۔
سرمایہ کاروں کی نظریں اور دیگر دھاتیں:
ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں کشیدگی میں کمی اور تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ نے سونے کی طلب کو مہمیز دی ہے۔ سرمایہ کار اس وقت امریکی روزگار کے اعداد و شمار کا انتظار کر رہے ہیں، جو فیڈرل ریزرو کی آئندہ مالیاتی پالیسی پر اثر انداز ہوں گے۔ سونے کے ساتھ ساتھ دیگر قیمتی دھاتوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے، جہاں چاندی کی قیمت میں 3.4 فیصد، پلاٹینم میں 2.4 فیصد اور پیلیڈیم میں 2.6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔



