پبلک اکاؤنٹس کمیٹی متحرک، جناح ماڈل ٹاؤن اسکینڈل دوبارہ کھل گیا،ہزاروں الاٹمنٹس ریڈار پر

مظفرآباد (کشمیر ڈیجیٹل) آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے میرپور ڈیوویلپمنٹ اتھارٹی میں مبینہ بے ضابطگیوں اور لاقانونیت پر سخت نوٹس لیتے ہوئے سپیشل اور فرانزک آڈٹ کے احکامات جاری کر دیئے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی آزادکشمیرکا اہم اجلاس چیئرمین عبدالماجد خان کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں سیکرٹری فزیکل پلاننگ اینڈ ہاؤسنگ، ڈی جی میرپور ڈیویلپمنٹ اتھارٹی (ایم ڈی اے)، سیکرٹری اسمبلی، ممبران کمیٹی، دیگر متعلقہ حکام اور میڈیا نمائندگان نے شرکت کی۔

مزید یہ بھی پڑھیں:میرپور : کھڑی شریف ویلفیئر سوسائٹی کی تقریب، فاروق اقبال کو اعزاز سے نوازا گیا

اجلاس میں ایم ڈی اے کے آڈٹ اعتراضات اور مالی و انتظامی بے ضابطگیوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں انکشاف ہوا کہ ایم ڈی اے کی الاٹمنٹ کمیٹی نے ایکٹ کے مغائر بورڈ سے اختیارات لے کر خود ہی اس کمیٹی کے ممبران کو پلاٹ الاٹ کئے۔

جس پر پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے تمام مشکوک و متنازع الاٹمنٹس کو کالعدم قرار دینے اور متعلقہ افراد کو نوٹسز جاری کرنے کی ہدایت کی۔

مزید یہ بھی پڑھیں:پاک بھارت تباہ کن جنگ کا خدشہ برقرار، امریکی تھنک ٹینک نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

بتایا گیا کہ اس نوعیت کے ایک ہزار سے زائد کیسز زیر غور ہیں، جن پر سیکرٹری اور ڈی جی ایم ڈی اے کو فوری کارروائی کا حکم دیا گیا ہے۔کمیٹی نے جناح ماڈل ٹاؤن میرپور اسکینڈل کی رپورٹ بھی احتساب بیورو سے طلب کر لی ۔۔

، جہاں ایک ارب 59 کروڑ روپے کی بے ضابطگیوں کی نشاندہی ہوئی ہے۔ اجلاس میں یہ بھی کہا گیا کہ اس معاملے میں ایم ڈی اے انتظامیہ نے ریکارڈ کی فراہمی کیلئے دھوکہ دہی کی کوشش کی۔

چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے سیکرٹری فزیکل پلاننگ اینڈ ہاؤسنگ کی سربراہی میں خصوصی کمیٹی قائم کر دی گئی جو میرپور بھر میں چائنہ کٹنگ، غیر قانونی سب ڈویژننگ اور نئے پلاٹس کی تخلیق کی مکمل تحقیقات کرے گی

جبکہ ذمہ داران کے خلاف فرد جرم عائد کرنے کا عندیہ بھی دیا گیا ہے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے اسٹیڈیم شاپس، فارم ہاؤسز اور دیگر الاٹمنٹس میں معاہدوں کی خلاف ورزی، اصل مقاصد سے انحراف اور آگے فروخت کیے جانے کے معاملات پر بھی کارروائی کا حکم دیا۔

اس سلسلے میں آڈیٹر جنرل آف پاکستان سے خصوصی آڈٹ کرانے کیلئے باضابطہ درخواست بھی کر دی گئی ہے تاکہ ایک آزاد اور جامع مالیاتی چھان بین ممکن بنائی جا سکے۔

یہ اجلاس میرپور ڈیویلپمنٹ اتھارٹی میں برسوں سے زیر گردش مالی و انتظامی بے ضابطگیوں کے خلاف بڑے کریک ڈاؤن کا آغاز قرار دیا جا رہا ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:پاک بھارت تباہ کن جنگ کا خدشہ برقرار، امریکی تھنک ٹینک نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

پی اے سی نے ایم ڈی اے کی آمدن سے متعلق 38 آڈٹ اعتراضات نمٹانے، قائداعظم اسٹیڈیم میں دکانوں کے کرایہ جات کی وصولی، فارم ہاؤسز اور کمرشل پلاٹس کی الاٹمنٹ کی تحقیقات، اور بقایاجات کی ریکوری کیلئے فوری اقدامات کا حکم دیا۔

اجلاس میں انکشاف ہوا کہ ایم ڈی اے کے 803 مقدمات مختلف عدالتوں میں زیر سماعت ہیں، جبکہ 2 ارب روپے سے زائد رقم قابل وصول ہے۔ پی اے سی نے ملوث افراد کے خلاف کارروائی اور معاملات کو شفاف بنانے کیلئے سخت ہدایات جاری کردیئے۔

اس سے قبل 2023 میں بھی اس وقت کے صدر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے میرپور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایم ڈی اے) میں بے ضابطگیوں کی تحقیقات کیلئے بنائی گئی کمیٹی کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کیا تھا

اس نوٹیفکیشن کے مطابق چیئرمین وزیر برائے ایم ڈی اے و توانائی و آبی وسائل چوہدری ارشد حسین،کمیٹی ممبران میں اظہر صادق، وزیر فزیکل پلاننگ و ہاؤسنگ یاسر سلطان، چوہدری قاسم مجید، سیکرٹری فزیکل پلاننگ،کمشنر میرپور، ڈپٹی کمشنر، ڈائریکٹر جنرل ادارہ ترقیات میرپور شامل تھے۔

جبکہ نوٹیفکیشن کے مطابق تحقیقات کی عمومی سربراہی و نگرانی چیف سیکرٹری آزاد کشمیر محمد عثمان چاچڑکے سپرد کی گئی تھی۔

Scroll to Top