پاک بھارت تباہ کن جنگ کا خدشہ برقرار، امریکی تھنک ٹینک نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

امریکی تھنک ٹینک کی سینئر محقق الزبتھ تھرلکلڈ نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک معمولی چنگاری بھی کسی بڑے اور تباہ کن عسکری تصادم کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔

جنوبی ایشیا میں بڑھتے ہوئے عسکری خطرات:

بین الاقوامی سلامتی سے متعلق امریکی تھنک ٹینک ‘اسٹمسن’ کی جنوبی ایشیا پروگرام کی ڈائریکٹر الزبتھ تھرلکلڈ نے اپنے حالیہ مضمون میں پاک بھارت تعلقات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ امریکی جریدے ‘فارن افیئرز’ میں شائع ہونے والی اس رپورٹ کے مطابق، خطے میں نئی عسکری حکمت عملی اور جدید ہتھیاروں کی موجودگی نے دونوں ممالک کے درمیان تناؤ کو ایک خطرناک سطح پر پہنچا دیا ہے، جہاں کسی بھی وقت ایک بڑا تصادم چھڑ سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور بھارت کے درمیان مستقبل میں ممکنہ معرکہ پہلے سے زیادہ خطرناک ہوسکتا ہے، عالمی ماہرین کا انتباہ

جدید ہتھیار اور بڑھتا ہوا اعتماد:

رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ دونوں ممالک کے پاس موجود جدید ترین اسلحہ اور بڑھتا ہوا عسکری اعتماد خطے کو خطرناک تصادم کی طرف دھکیل رہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ماضی کے برعکس اب حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں جہاں دونوں ممالک کی دفاعی پالیسیاں کسی بھی اشتعال انگیزی کا فوری جواب دینے کے لیے تیار ہیں، جو کہ کسی بھی وقت کنٹرول سے باہر ہو سکتی ہیں۔

عالمی طاقتوں کی شمولیت اور سفارتی چیلنجز:

الزبتھ تھرلکلڈ کے مطابق، اس ممکنہ جنگ میں چین اور امریکا کی شمولیت کے امکانات کو بھی رد نہیں کیا جا سکتا۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ موجودہ دور میں سوشل میڈیا اور غلط معلومات (Disinformation) جنگ کی آگ کو تیزی سے پھیلانے کا سبب بن سکتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں روایتی سفارت کاری کے مواقع محدود ہو جائیں گے اور واشنگٹن جیسے عالمی طاقت کے حامل شہر کے لیے بھی اس جنگ کو روکنا ایک مشکل ترین ٹاسک بن جائے گا۔

مزید پڑھیں: معرکہ حق میں پاکستان نے متعدد بھارتی جنگی طیارے مار گرائے، عالمی جریدہ فارن افیئرز

Scroll to Top