سابق رکن اسمبلی شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس قاتلانہ حملے میں شہید

چارسدہ: خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ میں دہشت گردی کی ایک افسوسناک واردات میں نامور مذہبی اسکالر، سابق رکن صوبائی اسمبلی اور شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد ادریس ترنگزئی شہید ہو گئے ہیں۔ یہ اندوہناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب مولانا اتمانزئی کے علاقے میں دورہ حدیث کا درس دینے کے لیے دارالعلوم جا رہے تھے۔

واقعے کی تفصیلات اور جانی نقصان:

پولیس ذرائع کے مطابق نامعلوم مسلح افراد نے مولانا ادریس کی گاڑی کو نشانہ بناتے ہوئے اس پر اندھا دھند فائرنگ کی۔ حملے کے نتیجے میں مولانا شدید زخمی ہوئے اور اسپتال منتقلی کے دوران زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے راستے میں ہی دم توڑ گئے۔ واقعے میں ان کی حفاظت پر مامور دو پولیس اہلکار بھی گولیاں لگنے سے زخمی ہوئے، جنہیں فوری طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ حملہ آور واردات کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

یہ بھی پڑھیں: ایران نے یواے ای پر کروز میزائل داغ دیئے، وزارت دفاع کی تصدیق

عوامی ردعمل اور سوگوار فضا:

مولانا کی شہادت کی خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی، جس کے بعد ہزاروں کی تعداد میں عقیدت مند اور شاگرد ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال پہنچ گئے۔ اس موقع پر فضا سوگوار رہی اور لوگوں میں شدید غم و غصہ پایا گیا۔ مولانا محمد ادریس کا شمار ملک کے جید علما میں ہوتا تھا جنہوں نے اپنی زندگی اشاعتِ دین اور درس و تدریس کے لیے وقف کر رکھی تھی۔

علمی اور سیاسی خدمات:

شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس نہ صرف ایک بلند پایہ مذہبی شخصیت تھے بلکہ انہوں نے سیاسی میدان میں بھی بھرپور خدمات انجام دیں۔ وہ صوبائی اسمبلی کے رکن کی حیثیت سے اپنے علاقے کے عوام کی نمائندگی کر چکے تھے۔ ان کے ہزاروں شاگرد دنیا بھر میں دین کی خدمت کر رہے ہیں، اور ان کی شہادت سے دینی مدارس کے حلقے میں ایک بڑا خلا پیدا ہو گیا ہے۔

مزید پڑھیں: نئی ایرانی تجاویز پر عدم اطمینان کا اظہار، مقاصد کے حصول تک جنگ سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، صدر ٹرمپ

انتظامیہ کے لیے یہ واقعہ ایک بڑا چیلنج ہے، کیونکہ دن دیہاڑے ایک معروف شخصیت کا قتل صوبے میں امن و امان کی صورتحال پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔

Scroll to Top