تہران: ترجمان کی جانب سے امریکی انتظامیہ کے حالیہ دعووں کی سختی سے تردید کی گئی ہے جس میں ایرانی سمندری حدود کے قریب فوجی کشتیوں کو نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ تہران نے ان دعووں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ان کے کسی بھی دفاعی اثاثے کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے۔
تحقیقاتی رپورٹ اور سویلین نقصانات:
مقامی ذرائع سے کی جانے والی تحقیقات کے مطابق، امریکی افواج نے عمان کے ساحل سے ایران کی جانب جانے والی دو چھوٹی عوامی سامان بردار کشتیوں کو نشانہ بنایا۔ اس افسوسناک کارروائی کے نتیجے میں ان کشتیوں پر سوار پانچ عام شہری شہید ہو گئے۔ ترجمان کے مطابق، امریکی صدر کے دعوے حقیقت کے برعکس ہیں کیونکہ نشانہ بننے والی کشتیاں فوجی نہیں بلکہ عام شہریوں کی ملکیت تھیں۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز کے قریب بھی نہ آناورنہ طاقت کا استعمال کرینگے، ایران کی امریکہ کو وارننگ
علاقائی صورتحال اور جوابی ردعمل:
ترجمان نے فجیرہ بندرگاہ اور تیل کی تنصیبات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہاں پیش آنے والے واقعات کسی پہلے سے طے شدہ منصوبے کا حصہ نہیں تھے بلکہ یہ سب امریکی مہم جوئی کا نتیجہ تھا۔ مزید برآں، متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے خلاف کی جانے والی حالیہ کارروائی کو ایک جوابی ردعمل قرار دیا گیا ہے کیونکہ یو اے ای ان حملوں میں ملوث پایا گیا ہے۔
تہران نے دو ٹوک الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ اگر دشمن کی جانب سے ایسی مزید مہم جوئی کی گئی تو اہم تنصیبات کو براہِ راست نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔




