میرپور (آصف اقبال، کشمیر ڈیجیٹل) آزاد کشمیر تعلیمی بورڈ کی ممکنہ تقسیم کے معاملے پر بورڈ بچاؤ کمیٹی نے شدید تحفظات کا اظہار کرتےہوئے مزید انکشاف کردیئے۔
آزاد کشمیر میں نئے تعلیمی بورڈز کے قیام کے معاملے پر سول سوسائٹی اور “بورڈ بچاؤ کمیٹی” نے سخت ردعمل دیتے ہوئے میرپور بورڈ کے اثاثوں کی تقسیم کی شدید مخالفت کی ہے۔
تعلیمی بورڈ میرپور کی ممکنہ تقسیم کے حوالے سے تشکیل دی گئیکمیٹی کے نمائندگان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اعظم سے ہونے والی ملاقات کی تفصیلات بھی میڈیا کے سامنے رکھ دیں۔
پریس کانفرنس میں صدر ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن بابر علی خان، پروفیسر نغمان عارف اور تاج دین ایڈووکیٹ نے شرکت کی۔
میرپور کے عوام تعلیمی بورڈ کی تقسیم کے خلاف متحد ہیں اور اس فیصلے کو ہر سطح پر چیلنج کیا جائے گا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:راولپنڈی پولیس کی کارروائی:چوہڑ چوک سے بھارتی شہری گرفتار، مقدمہ درج
مقررین کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر تعلیمی بورڈ میرپور کی تقسیم کسی صورت قابل قبول نہیں اور اس اقدام سے خطے کے تعلیمی نظام پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم سے ملاقات کے دوران بھی اس معاملے پر اپنے تحفظات سے آگاہ کیا گیا ہے۔ بورڈ بچاؤ کمیٹی کے رہنماؤں نے واضح کیا کہ اگر تعلیمی بورڈ میرپور کی تقسیم کے عمل کو نہ روکا گیا تو میرپور ڈسٹرکٹ بار، عوامی ایکشن کمیٹی میرپور، انجمن تاجران اور دیگر سماجی و سیاسی تنظیمیں اور جماعتیں بھرپور احتجاج کریں گی۔
اگر دو نئے بورڈز کا قیام ناگزیر ہو تو پہلے غیر جانبدار ماہرین پر مشتمل کمیٹی تشکیل دے کر مکمل فیزیبلٹی رپورٹ حاصل کی جائے، اور اگر رپورٹ اس کی اجازت دے تو حکومت نئے بورڈز کے لیے الگ گرانٹ فراہم کرے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:اسلام آباد ہائیکورٹ :ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو کیس،لیز منسوخی کیخلاف دائر درخواست مسترد
انہوں نے واضح کیا کہ میرپور بورڈ کے اثاثوں کو تقسیم کرنے کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی، کیونکہ یہ ایک مستحکم ادارے کو کمزور کرنے کے مترادف ہوگا۔
مقررین نے مزید کہا کہ دنیا بھر میں تعلیمی نظام کو مرکزی (سنٹرلائزڈ) کیا جا رہا ہے اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، ایسے میں بورڈز کو تقسیم کرنا غیر دانشمندانہ فیصلہ ہوگا۔




