بھارت کی بدنام زمانہ انویسٹی گیشن ایجنسی ( این آئی اے) نے کشمیریوں کے جذبہ حریت کودبانے کیلئے نیا حربہ اپنا لیا ہے اور مقبوضہ کشمیر سے آپریٹ ہونیوالے9 ایکس اکاؤنٹ کو مشتبہ قرار دیکر ایکس سے ان سے متعلق تفصیلات مانگ لی ہیں ۔
بھارت کی نام نہاد ایجنسی اتنی خوفزدہ ہے کہ ان اکاؤنٹس کے سبسکرائبر کی بھی تفصیلات مانگ لی ہیں ۔
این آئی اے نے ایکس کو لکھی گئی درخواست میں اپیل کی ہے کہ صارفین کی لوکیشن ، فون نمبرز ، ای میلز سمیت دیگرمعلومات دی جائیں مگر اس کاصارف کو علم نہ ہو ۔
بھارت کی یہ ایجنسی ( این آئی اے) اس سے قبل بھی کئی میڈیا اداروں ، صحافیوں کو انسانی حقوق کے کارکنوں کو نشانہ بناچکی ہے اور متعدد صحافی اور انسانی حقوق کے کارکن سالوں سے ناحق قید ہیں ۔
این آئی اے نے جن اکاؤنٹس کی تفصیلات مانگی ہیں وہ کشمیریوں کے پیدائشی حق خودارادیت کی آواز اُٹھا رہے ہیں ان کا جرم بس اتنا ہی ہے جس کو بھارت کی بدنام زمانہ ایجنسی نے دہشت گردی سے جوڑ دیا ہے ۔
سی ای او ایکس کے نام لکھے گئے جس میں کہا گیا ہے کہ این آئی اے بھارت میں قانون نافذ کرنے والی سب سے بڑی ایجنسی ہے اور اہم تحقیقات میں ہمارے نوٹس میں آیا ہے کہ یہ ایکس اکاؤنٹس مشتبہ شخص استعمال کر رہے ہیں جو دہشتگردی کی سرگرمیوں میں ملوث ہو سکتے ہیں ۔
خط میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ درج ذیل ایکس اکاؤنٹ کے صارف عسکری تنظیموں سے وابستہ پائے گئے ہیں ۔
خط میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ اکاؤنٹس بھارت میں گھسنے والے عسکریت پسندوں کو تربیت فراہم کرنے اور مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کو اُکسانے میں ملوث ہیں جس کی وجہ سے نوجوان عسکریت پسندی کی طرف مائل ہو رہے ہیں ۔
جن ایکس اکائونٹس کی تفصیلات مانگی گئی ہیں ان میں@HameedAPHC،@advparvaizah،@fahim kayani،@ghulamnabifai،@Mobyshah،@MButt50،@IAmMukhtarbaba،@WaniWrites،@shamim Shawlاکائونٹس شامل ہیں ۔
این آئی اے نے ایکس سے ان اکاؤٹس سے متعلق جو تفصیلات مانگی ہیں ان میں ای میلز، پتہ ، فون نمبرز، منسلک کنکشن ، کہاں سے لاگ ان ہیں وغیرہ شامل ہے ۔
این آئی اے نے یہ درخواست ہندوستان کی شہری تحفظ سنہتا (BNSS) کے سیکشن 94 کے مطابق کی ہے ۔
این آئی اے کا خط میں کہنا ہے کہ مذکورہ ڈومینز سے وابستہ سبسکرائبر کی معلومات کو سرچ وارنٹ کے اجرا یا اس طرح کی معلومات کے افشا کے لیے دیگر قانونی عمل تک محفوظ رکھا جائے گا ۔
این آئی اے نے آخر میں ایکس سے اپیل کی کہ ہماری درخواست کے بارے میں صارف کو نہ بتائیں ۔




