(تحریر: محمد شبیر اعوان):ہر سال 3 مئی کو دنیا بھر میں “World Press Freedom Day” منایا جاتا ہے، یہ دن محض ایک رسمی یادگار نہیں بلکہ ایک فکری، اخلاقی اور قومی عہد کی تجدید کا دن ہے،وہ عہد کہ قلم سچ کے ساتھ کھڑا رہے گا، صحافت ذاتی مفادات کے بجائے قومی اور انسانی اقدار کی ترجمان ہوگی، اور آزادیٔ اظہار کو ذمہ داری کے ساتھ بروئے کار لایا جائے گا۔
صحافت اگر آزاد ہو تو معاشرہ بیدار ہوتا ہے، اور اگر اس پر قدغن ہو تو سچائی کے دروازے بند ہونے لگتے ہیں۔ آج جب ہم اس دن کو مناتے ہیں تو دنیا کے مختلف خطوں میں آزادیٔ صحافت کی کیفیت یکساں نہیں۔ پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر میں ذرائع ابلاغ کو ایک حد تک آزادی حاصل ہے، جہاں صحافی قومی مسائل، عوامی حقوق اور ریاستی پالیسیوں پر کھل کر اظہارِ خیال کرتے ہیں۔ اگرچہ یہاں بھی چیلنجز موجود ہیں، مگر مجموعی طور پر ایک فعال اور متحرک ذرائع ابلاغ اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس کے برعکس مقبوضہ کشمیر میں صحافت مسلسل جبر، سنسرشپ اور خوف کی فضا میں سانس لے رہی ہے۔ وہاں سچ بولنا جرم بن چکا ہے، قلم کو ہتھکڑیاں پہنائی جاتی ہیں، اور صحافیوں کو خاموش کرانے کے لیے مختلف ہتھکنڈے استعمال کیے جاتے ہیں۔
یہی وہ پس منظر ہے جو ہمیں اپنے نظام اور اپنی آزادی کی قدر کرنے کا احساس دلاتا ہے۔ آزادیٔ صحافت صرف ایک حق نہیں بلکہ ایک ذمہ داری بھی ہے۔ یہ وہ قوت ہے جو عوام اور ریاست کے درمیان پل کا کردار ادا کرتی ہے، جو مظلوم کی آواز کو طاقتور ایوانوں تک پہنچاتی ہے، اور جو معاشرے میں شعور، بیداری اور اصلاح کا ذریعہ بنتی ہے۔ اگر ہم حالیہ قومی تاریخ کے ایک اہم مرحلے،معرکۂ حق “بنیان مرصوص”،کا جائزہ لیں تو ذرائع ابلاغ کے کردار کی اہمیت مزید واضح ہو جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: صدر اور وزیراعظم کا صحافی برادری کو خراج تحسین؛ غیر مستند خبروں کے تدارک پر زور
مئی 2025 میں پیش آنے والا یہ معرکہ صرف ایک عسکری یا سفارتی محاذ نہ تھا بلکہ ایک مکمل معلوماتی اور نظریاتی جنگ بھی تھی۔ اس جنگ میں قومی ذرائع ابلاغ اور سماجی ذرائع ابلاغ دونوں نے ایک متحد قوت کے طور پر کام کیا، اور قوم کو ایک مضبوط “بنیان مرصوص” کی شکل میں جوڑنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ قومی ذرائع ابلاغ نے اس دوران نہایت ذمہ داری، سنجیدگی اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا۔ ہر خبر کو تصدیق کے بعد نشر کرنا، حساس معلومات کو احتیاط کے ساتھ پیش کرنا، اور قومی مفاد کو ہر چیز پر مقدم رکھنا،یہ وہ اصول تھے جنہوں نے ذرائع ابلاغ کو معتبر بنایا۔
دشمن کی جانب سے پھیلائی جانے والی جھوٹی خبروں اور گمراہ کن مہمات کا مؤثر جواب صرف اسی صورت ممکن تھا جب سچ کو بروقت اور مدلل انداز میں پیش کیا جائے، اور یہی کام قومی ذرائع ابلاغ نے بخوبی انجام دیا۔ اسلامی تعلیمات بھی ہمیں اسی راستے کی طرف رہنمائی کرتی ہیں۔ قرآن مجید میں واضح ہدایت موجود ہے کہ خبر کی تحقیق کی جائے، سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ کہا جائے۔ یہ اصول صحافت کی بنیاد ہیں۔
جب صحافت ان اصولوں پر قائم ہو تو وہ صرف ایک پیشہ نہیں رہتی بلکہ ایک عبادت بن جاتی ہے،ایسی عبادت جس میں معاشرے کی اصلاح، انصاف کا قیام اور حق کی ترویج شامل ہو۔ دوسری طرف سماجی ذرائع ابلاغ نے اس معرکے میں رفتار اور وسعت کے نئے باب کھولے۔ آج کے دور میں اطلاعات کی ترسیل لمحوں میں ہو جاتی ہے، اور ہر فرد ایک ممکنہ صحافی بن چکا ہے۔ معرکۂ حق کے دوران نوجوانوں نے سماجی ذرائع ابلاغ کو ایک مؤثر ذریعہ کے طور پر استعمال کیا، قومی بیانیے کو فروغ دیا، اور عالمی سطح پر پاکستان کا مؤقف اجاگر کیا۔ تاہم سماجی ذرائع ابلاغ کی یہ طاقت ایک دو دھاری تلوار بھی ہے۔
اگر اسے ذمہ داری کے ساتھ استعمال نہ کیا جائے تو یہ گمراہی، انتشار اور جھوٹی خبروں کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس معرکے میں جہاں مثبت کردار سامنے آیا، وہیں اس بات کی ضرورت بھی شدت سے محسوس کی گئی کہ سماجی ذرائع ابلاغ استعمال کرنے والوں کو تربیت اور شعور فراہم کیا جائے تاکہ وہ تحقیق، تصدیق اور ذمہ داری کے اصولوں کو اپنائیں۔
معرکۂ حق “بنیان مرصوص” نے ایک اور اہم پہلو کو بھی اجاگر کیا،اور وہ ہے عوامی آواز کی مؤثر ترجمانی۔ ذرائع ابلاغ نے عام آدمی کے مسائل، جذبات اور خدشات کو نہ صرف اجاگر کیا بلکہ انہیں اربابِ اختیار تک پہنچانے کا ذریعہ بھی بنا۔ یہی وہ کردار ہے جو صحافت کو ایک مقدس فریضہ بناتا ہے۔ جب ذرائع ابلاغ عوام کی آواز بن جائیں تو نظام میں شفافیت، احتساب اور بہتری کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ قومی سلامتی کے تناظر میں بھی ذرائع ابلاغ نے ایک متوازن کردار ادا کیا۔ اس نے آزادیٔ اظہار کے حق کو برقرار رکھتے ہوئے قومی مفاد کو بھی مقدم رکھا۔
یہ توازن ہی دراصل ایک باشعور اور ذمہ دار صحافت کی پہچان ہے۔ اس نے یہ ثابت کیا کہ آزادی اور ذمہ داری ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ لازم و ملزوم ہیں۔ آج عالمی یومِ صحافت کے موقع پر ہمیں اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا کہ صحافت ایک طاقت ہے،ایسی طاقت جو قوموں کی تقدیر بدل سکتی ہے۔ اگر یہ طاقت مثبت انداز میں استعمال ہو تو ترقی، استحکام اور شعور کو فروغ دیتی ہے، اور اگر اس کا غلط استعمال ہو تو انتشار، بداعتمادی اور کمزوری کا باعث بنتی ہے۔
پاکستان اور آزاد کشمیر میں ذرائع ابلاغ نے اپنی آزادی کو ذمہ داری کے ساتھ استعمال کرتے ہوئے ایک مثبت مثال قائم کی ہے، جبکہ مقبوضہ کشمیر میں صحافت پر پابندیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ سچ سے خوف کھانے والے ہمیشہ قلم کو خاموش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے میں ہماری ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے کہ ہم نہ صرف اپنی آزادی کی حفاظت کریں بلکہ ان خطوں کے لیے بھی آواز بلند کریں جہاں آج بھی سچ قید ہے۔
اسلام ہمیں سچائی، دیانت داری اور انصاف کا درس دیتا ہے۔ یہی اصول صحافت کے بھی بنیادی ستون ہیں۔ اگر ہم ان اصولوں کو اپنا لیں تو صحافت نہ صرف ایک پیشہ رہے گی بلکہ ایک مشن بن جائے گی،ایسا مشن جو قوم کی رہنمائی کرے، اس کی اصلاح کرے اور اسے ترقی کی راہ پر گامزن کرے۔
مزید پڑھیں: پاکستان میں عید الاضحیٰ 27 مئی کو ہونے کا امکان، ماہرین فلکیات نےپیش گوئی کر دی
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ معرکۂ حق “بنیان مرصوص” نے ہمیں یہ سبق دیا کہ جب قوم ایک نظریے، ایک مقصد اور ایک سچ کے گرد متحد ہو جائے تو کوئی طاقت اسے شکست نہیں دے سکتی۔ اس اتحاد میں ذرائع ابلاغ نے ایک مضبوط ستون کا کردار ادا کیا،ایسا ستون جو نہ صرف معلومات فراہم کرتا ہے بلکہ قوم کی سمت بھی متعین کرتا ہے۔ عالمی یومِ صحافت ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ قلم کی طاقت کو پہچانیں، اس کی حرمت کا خیال رکھیں، اور اسے اسلام کی سربلندی، پاکستان کی سلامتی، اور عوام کی فلاح کے لیے استعمال کریں۔ کیونکہ جب قلم سچ کے ساتھ کھڑا ہو جائے تو وہ نہ صرف تاریخ لکھتا ہے بلکہ تاریخ بدلنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔




