مظفرآباد/پشاور(کشمیر ڈیجیٹل)محمد حسن خان نے نظرِ ثانی اتھارٹی، ڈسٹرکٹ الیکشن کمیشن پشاور میں ایک باضابطہ درخواست جمع کرا دی۔
درخواست میں مہاجرین مقیم پاکستان کے حلقہ جات میں انتخابی فہرستوں کی تیاری کے عمل پر سنجیدہ تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:ن لیگی کارکنوں کا دیوان علی چغتائی کوتسلیم کرنے سے انکار، 10 اجتماعی استعفوں کا اعلان
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن آزاد کشمیر کی جانب سے پشتنی باشندۂ ریاست سرٹیفکیٹ اور دیگر ضروری کوائف کی مکمل جانچ پڑتال کے بغیر ابتدائی انتخابی فہرستوں کی اشاعت پر بھی تحفظات کا اظہارکیا گیا۔
ابتدائی انتخابی فہرستوں کی اشاعت چیف جسٹس ہائی کورٹ آزاد کشمیر کے 02 اپریل 2026 کے تاریخی فیصلے کی صریح خلاف ورزی ہے۔
محمد حسن خان نے اپنی درخواست میں مزید کہا کہ مذکورہ عدالتی فیصلے کی روشنی میں اب یہ ذمہ داری الیکشن کمیشن آزاد کشمیر پر عائد ہوتی ہے کہ مہاجرین حلقہ جات میں ازخود تمام اسٹیٹ سبجیکٹ اور دیگر اہم دستاویزات کی مکمل اور شفاف جانچ پڑتال کو یقینی بنائے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر ہائی کورٹ کا بڑا حکم، محکمہ صحت مظفرآباد میں 20 سے زائد تقرریاں معطل
انہوں نے نشاندہی کی کہ محض فارم 9 کے ذریعے اعتراضات کا طریقہ کار ناکافی ہے، کیونکہ اس میں اعتراض کنندہ اکثر سیاسی دباؤ اور انتقامی کارروائیوں کا شکار ہو سکتا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہ ہونے کی صورت میں مہاجرین حلقہ جات میں بے چینی اور اضطراب کی فضا پیدا ہو سکتی ہے، جو انتخابی عمل کی شفافیت کو متاثر کرے گی۔
مزید یہ بھی پڑھیں:مقبوضہ کشمیر پہنچنے والے آسٹریلوی سیاح کا بڑا بیان، بھارتی قبضے کو غیر قانونی قرار دے دیا
محمد حسن خان نے مطالبہ کیا کہ شفاف، منصفانہ اور غیر جانبدار انتخابات کے انعقاد کے لیے چیف جسٹس ہائی کورٹ آزاد کشمیر کے فیصلے پر من و عن عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے اور انتخابی فہرستوں کی تیاری کے عمل کو قانون اور آئین کے مطابق بنایا جائے۔




