محکمہ جنگلات کے ملازمین افسرشاہی کیخلاف میدان میں آگئے، بڑا اعلان

مظفرآباد(کشمیر ڈیجیٹل) محکمہ جنگلات کی تنظیم غیر جریدہ اور فاریسٹر فاریسٹ گارڈ ایسوسی ایشن نے سکیل 1 سے 16 تک کے ملازمین کی ترقیابی روکے جانے کیخلاف دفاترتالہ بند ہڑتال کا آغاز کردیا۔

احتجاجی دھرنا ،ملازمین کے ایک محکمہ دو قانون کے فلک شگاف نعرے، ہفتے کے اندر اندر ہمارے نوٹیفکیشن جاری کریں ورنہ احتجاج مزید طویل کرینگے ۔۔

تنظیم فاریسٹر فاریسٹ گارڈ ایسوسی ایشن کے مرکزی صدر محمد سلیم اعوان ، تنظیم غیر جریدہ کے مرکزی صدر سالک رشید عباسی، راجہ اویس ناصر خان ، ندیم اعوان ، راجہ تصویر، اسد مرزا ، درجہ چہارم کے صدر چوہدری یعقوب ، اسرار اختر و دیگر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آفیسران اپنے ماتحتوں کا خیال نہیں رکھ سکتے تو انہیں سیٹوں پر بیٹھنے کوئی حق نہیں ۔

آفیسران کے کام راتوں رات ہو جاتے ہیں لیکن ہیڈ کلرک سمیت جملہ ملازمین کے مسائل کے حل کی باری آتی ہے تو کمیٹیاں بن جاتی ہیں۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ یہ ہم کسی صورت قبول نہیں کریں گے، ہر مجاز افسر کو ملازمین کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کے بارے میں باضابطہ آگاہ کر چکے ہیں لیکن کوئی ٹس سے مس نہیں ہورہا ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:مجتبیٰ خامنہ ای شدید زخمی ، قاصدوں کے زریعے پیغام رسانی جاری ہے، ایرانی عہدیدار

ترقیابیوں کا عمل رکنے کی وجہ سے سپرنٹنڈنٹ ، بجٹ افسر،ہیڈ کلرک ،ایڈمن افسر ، علاقائی سرکل ، چیف آفس ، مظفرآباد ، میرپور اور روالاکوٹ میں ہیڈ کلرک نہیں اس کا ذمہ دار کون ہے؟

ایک کلرک سے تمام شعبہ جات کے کام لیے جا رہے ہیں، اس کے ذمہ دار محکمہ کے اعلیٰ حکام ہیں، انہوں نے ناظم اعلیٰ جنگلات (پرنسپل )کو واضح پیغام دیتے ہوئے کہا کہ فائلیں جانے سے کام نہیں بنے گا،۔

ان کا پراسیس آپ کی ذمہ داری ہے ، ہڑتال ختم نہیں کریں گے ، موخر کریں گے، مقررین کا کہنا تھا کہ محکمہ جنگلات میں 2011 کے بعد جملہ جریدہ اسامیوں پر بذریعہ پبلک سروس کمیشن تقرریاں عمل میں نہیں لائی گئیں ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:فوڈ اتھارٹی مظفرآباد کا شہر بھر میں کریک ڈاؤن جاری، گودام سیل

محکمہ جنگلات کے اندر آفیسران کا ایک گروپ بیٹھا ہے جو اس میں رکاوٹ ہے ، آفیسران کے گروپس ختم کیے جائیں ، ایسا نہ ہو کہ آفیسران کا گریبان ہواور ہمارا ہاتھ ہوگا۔۔

ایڈہاک ازم کے تحت تعیناتیوں کو کسی صورت قبول نہیں کریں گے اور ایسا کیا گیا تو ایسے آفیسر کے دفتر بائیکاٹ کیا جائے گا، جائز مطالبات سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوں گے۔

آزادکشمیر بھر میں ایڈہاک ملازمین پہلے ہی مسائل کا شکار ہیں جن کو رکھنے یا نکالنے کیلئے روزانہ کمیٹیاں بن رہی ہیں۔

یہ کمیٹیاں آج تک کوئی فیصلہ نہیں کر سکیں آفیسران 3، 3لاکھ روپے لے کر سٹیٹس انجوائے کرتے ہیں لیکن ملازمین کے مسائل حل کیلئے ان کے پاس وقت نہیں ۔

اس وقت اعلیٰ افسران کروڑوں روپے مالیت کی گاڑی ، لاکھوں روپے کا پیٹرول اُڑارہے ہیں ، آپ بھی ہماری طرح انسان ہیں کوئی خلائی مخلوق نہیں ۔

انہوں نے محکمہ جنگلات میں ایڈہاک تقرریاں عمل میں لائی گئی تو عدالت سے رجوع کریں گے۔ دوسری جانب ہڑتال کے باعث محکمہ جنگلات میں آنے والے سائلین کو مشکلات کا سامنا رہا ۔

Scroll to Top