امریکی صدر ٹرمپ کا بھارت کو ’جہنم کا گڑھا‘ قرار دینے پر ہنگامہ، اپوزیشن نے مودی کو ’کمزور ترین وزیراعظم‘ قرار دیدیا

واشنگٹن/نئی دہلی: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھارت کے بارے میں توہین آمیز ریمارکس اور اسے ’جہنم کا گڑھا‘ قرار دیے جانے کے بعد بھارت کی سیاست میں بھونچال آ گیا ہے۔ بھارتی مرکزی اپوزیشن جماعت، انڈین نیشنل کانگریس نے مودی سرکار کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے وزیراعظم پر بزدلی کا الزام عائد کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ‘ٹروتھ سوشل’ پر اپنے ایک حالیہ بیان میں بھارت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ’جہنم کا گڑھا‘ قرار دیا ہے۔ ٹرمپ نے پیدائشی شہریت کے قانون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ “یہاں پیدا ہونے والا بچہ فوری طور پر شہری بن جاتا ہے اور پھر وہ اپنا پورا خاندان بھارت کے کسی ’جہنم کے گڑھے‘ سے لے آتے ہیں۔” امریکی صدر نے بھارتی تارکینِ وطن کو ’لیپ ٹاپ والے غنڈے‘ قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ انہوں نے امریکی پرچم کو روند ڈالا ہے۔

“अमेरिका के राष्ट्रपति ट्रंप ने भारत को ‘नरक’ बताया है”

اس بیان کے بعد انڈین نیشنل کانگریس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر ایک جارحانہ بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ کے الفاظ نے 140 کروڑ بھارتیوں کے جذبات کو مجروح کیا ہے اور یہ براہِ راست قومی وقار پر حملہ ہے۔ کانگریس نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی فوری طور پر سفارتی سطح پر اس معاملے کو اٹھائیں اور سخت احتجاج ریکارڈ کرائیں۔

یہ بھی پڑھیں: جنگ بندی میں توسیع پر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ،پاکستان تنازعات حل کیلئے کوششیں جاری رکھے گا، وزیراعظم شہبازشریف

اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ مودی، جو ماضی میں ٹرمپ کے ساتھ اپنی دوستی کا ڈھنڈورا پیٹتے تھے، اب ایک ’کمزور لیڈر‘ ثابت ہو رہے ہیں جو ملک کی ساکھ پر ہونے والے پے در پے حملوں کے باوجود خاموش ہیں۔ کانگریس کے مطابق ٹرمپ کی جانب سے بھارتیوں کو نشانہ بنانا بین الاقوامی سطح پر بھارت کی سفارتی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔ دوسری جانب بھارتی حکومت نے تاحال ان ریمارکس پر کوئی باقاعدہ سرکاری ردِ عمل جاری نہیں کیا ہے، جس کی وجہ سے مودی سرکار کو شدید عوامی اور سیاسی دباؤ کا سامنا ہے۔

Scroll to Top