وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے ایران اور ممکنہ جنگ بندی سے متعلق خبروں پر وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ کسی بھی سیز فائر یا جنگ بندی کیلئےکوئی حتمی ڈیڈ لائن مقرر نہیں کی ۔
انہوں نے میڈیا میں گردش کرنے والی ان خبروں کو مسترد کیا جن میں کہا جا رہا تھا کہ امریکہ نے ایران کو 3 سے 5 روز کی مہلت دی ہے ۔
ترجمان کے مطابق صدر ٹرمپ اس معاملے میں لچکدار حکمتِ عملی اختیار کیے ہوئے ہیں اور بطور کمانڈر ان چیف وہی اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ وقت اور حالات کے مطابق اگلا قدم کیا ہونا چاہیے ۔
ان کا کہنا تھا کہ اس وقت امریکہ ایران سے ایک متفقہ اور واضح تجویز کا انتظار کر رہا ہے اور اُمید ہے کہ آئندہ چند دنوں میں اس پر پیش رفت سامنے آئے گی ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:اسلام آباد مذاکرات: جے ڈی وینس امریکی مذاکراتی ٹیم کی قیادت کرینگے، وائٹ ہائوس
کیرولین لیوٹ نے کہا کہ ان چند دنوں کے دوران اگر فریقین کے درمیان عارضی جنگ بندی برقرار رہتی ہے تو یہ ایک مثبت پیش رفت ہوگی، تاہم اصل مقصد ایک مستقل اور واضح معاہدہ ہے جس پر دونوں طرف سے اتفاق ہو ۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکی حکومت جنگ بندی کی کسی بھی توسیع یا آئندہ اقدامات کے حوالے سے ایران کے جواب کو اہم سمجھتی ہے ۔
ترجمان نے مزید دعویٰ کیا کہ ایران پر عائد اقتصادی دباؤ کے باعث صورت حال میں تبدیلی آ رہی ہے اور ایران مذاکرات کی طرف واپس آ رہا ہے ۔
ان کے مطابق امریکہ کی پالیسی واضح ہے کہ ایران کو افزودہ یورینیئم سے متعلق اپنے اقدامات پر بھی سنجیدہ پیش رفت کرنا ہوگی ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:ایران شکست تسلیم کرے ورنہ مزید نقصان پہنچائیں گے،وائٹ ہائوس
آخر میں وائٹ ہاؤس ترجمان نے یہ بھی کہا کہ ایران کے سرکاری بیانات اور امریکہ کے ساتھ ہونے والی نجی بات چیت میں واضح فرق پایا جاتا ہے، جس کا تجزیہ امریکی انتظامیہ مسلسل کر رہی ہے ۔




