راولاکوٹ (بیورو رپورٹ)ہیلتھ ایمپلائز فیڈریشن کے زیر اہتمام ملازمین نے اپنے مطالبات کے حق میں شدید احتجاج کیا۔
احتجاج میں سینکڑوں مرد و خواتین ملازمین نے بھرپور شرکت کی ، دوران احتجاج خواتین نے انوکھا احتجاج کرتے ہوئے اپنے دوپٹے جلا ڈالے۔
جس کے بعد صورتحال جذباتی اور کشیدہ ہو گئی ۔مظاہرین نے شیخ زید ہسپتال سے احتجاجی ریلی نکالی جو مختلف شاہراہوں سے ہوتی ہوئی راولاکوٹ پریس کلب پہنچ گئی۔
مزید یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم مودی کے افتتاح سے ایک دن قبل راجستھان آئل ریفائنری میں آگ بھڑک اٹھی
پریس کلب کے باہر جلسہ عام کی شکل اختیار کر گئی۔ اس موقع پر شرکاء نے حکومت اور متعلقہ حکام کے خلاف شدید نعرے بازی بھی کی ۔
مظاہرین نے کہا کہ ڈی جی ہیلتھ ان کے مسائل کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے جبکہ ہیلتھ الاؤنس کی ادائیگی میں تاخیر کی جا رہی ہے جو ناقابل قبول ہے۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ سیکرٹری ہیلتھ پہلے ہی وزیر صحت اور وزیر اعظم کی ہدایت پر الاؤنس دینے کی یقین دہانی کروا چکے ہیں اس کے باوجود عملی طور پر تاخیری حربے اختیار کئے جا رہے ہیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم فیصل راٹھور کا دورہ کھوئیرٹہ،رفیق نیئر کی کارکنوں کو بھرپور شرکت کی ہدایت
ملازمین نے الزام عائد کیا کہ اپریل کے بجائے مئی سے الاؤنس کی سمری بھجوا کر ہزاروں ملازمین کو مالی نقصان پہنچایا گیا ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے اور فوری طور پر ہیلتھ الاؤنس اور سروس اسٹرکچر پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔
مظاہرین نے خبردار کیا کہ اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا اور 30 اپریل سے مکمل کام چھوڑ ہڑتال شروع کر دی جائے گی۔




