ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی رابطوں میں کچھ معاملات پر اتفاق ضرور ہوا ہے تاہم کئی اہم نکات پر اب بھی اختلافات موجود ہیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکا دباؤ، دھمکیوں اور ڈیڈ لائنز کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا جس کے بعد اب وہ بالواسطہ ذرائع سے پیغامات بھیجنے پر مجبور ہوگیا۔
یہ بھی پڑھیں:امریکہ ایران مذاکرات کیلئے تاریخ ابھی فائنل نہیں ، اعلیٰ حکومتی ذرائع
انہوں نے کہا کہ ایران نے عارضی جنگ بندی اس لیے قبول کی تاکہ امریکا کو اپنے مطالبات پورے کرنے کا موقع دیا جا سکے جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی اس لیے قبول کی کیونکہ میدان جنگ میں کامیابی ایران کو حاصل ہوئی تھی۔
ایرانی اسپیکر کا مزید کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ اپنے بنیادی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہے جن میں ایران میں حکومت کی تبدیلی اور اس کی میزائل و عسکری صلاحیتوں کو تباہ کرنا شامل تھا۔
محمد باقر قالیباف نے کہا کہ امریکا نے ناکا بندی کا اعلان کیا جو ایک بھونڈا اور جاہلانہ فیصلہ ہے، دوسرے ممالک آبنائے ہرمز سے گزر سکتے ہیں مگر ہم نہیں؟یہ ناممکن ہے۔
انہوں نے کہا کہ جنگ میں دشمن کے 170سے 180 ڈرونز نشانہ بنائے، امریکا کا ایف 35 لڑاکا طیارہ بھی نشانہ بنایا گیا جو معمولی بات نہیں۔
ڈاکٹر محمد باقر قالیباف کا کہنا تھاکہ ایران کی جنگی ٹیکنالوجی کی تفصیل میں نہیں جانا چاہتا مگر دشمن بات ضرور سمجھ گیا ہوگا انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران، وینزویلا نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں:واشنگٹن ،ٹرمپ کی زیر صدارت ایران کی صورتحال پر سچویشن روم میں اہم اجلاس
اس کے علاوہ ڈاکٹر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ امریکی مائن سوئپر اپنی موجودہ پوزیشن سے ایک انچ بھی آگے نہ بڑھیں، امریکی مائن سوئپر آگے بڑھا تو ہم یقینی طور پر فائرنگ کریں گے۔




