پاکستان کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا اگلا دور پیر کے روز پاکستان میں ہونے کا امکان ہے۔
سی این این نے ایرانی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ وفود پیر کو میز پر بیٹھنے والے ہیں، تاہم امریکہ نے ابھی تک باضابطہ طور پر ان مذاکرات کی تصدیق نہیں کی ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل اور سی بی ایس نیوز نے بھی تہران اور واشنگٹن کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والی اس ملاقات کی تائید کی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کے ایک اہلکار کے مطابق اعلیٰ امریکی حکام کو مذاکرات کی بحالی کے لیے دوبارہ پاکستان بھیجنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد، راولپنڈی،آزادکشمیر سمیت ملک کے مختلف حصوں میں زلزلے کے شدید جھٹکے
مذاکرات کے حوالے سے صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران افزودہ یورینیم کو ملک سے نکال کر امریکہ منتقل کرنے سمیت ہر بات پر متفق ہو چکا ہے۔ تاہم، ایک سینیئر ایرانی اہلکار نے ان دعوؤں کو “متبادل حقائق” قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ ایرانی اہلکار نے واضح کیا کہ تہران اپنا افزودہ یورینیم بیرونِ ملک نہیں بھیجے گا اور نہ ہی افزودگی غیر معینہ مدت کے لیے روکے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ٹرمپ کی عوامی شیخی بازی جاری سفارت کاری کو مشکل بنا سکتی ہے اور اسے محض وقت ضائع کرنے کا حربہ سمجھا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر نے سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو وہ ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع نہیں کریں گے۔ انہوں نے انتباہ کیا کہ اگر جوہری مواد پرامن طریقے سے منتقل نہ ہوا تو امریکہ اسے “سخت اور غیر دوستانہ طریقے” سے حاصل کر لے گا۔ ادھر آبنائے ہرمز کے حوالے سے بھی صورتحال کشیدہ ہے؛ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ نے بحری ناکہ بندی ختم نہ کی تو یہ اہم تجارتی راستہ دوبارہ بند کر دیا جائے گا۔




