سینئر ایرانی عہدیدار نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان اہم اختلافات باقی ہیں۔
ایرانی عہدیدار نے بتایا کہ ان اختلافات میں جوہری معاملات اور سنجیدہ مذاکرات کی ضرورت شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:آبنائے ہرمز کونسی 3 شرائط پر کھولی گئی؟ایرانی میڈیا نے تفصیلات بتا دیں
ایرانی عہدیدار نے جنگ بندی میں توسیع سمیت آنے والے دنوں میں ایک ابتدائی ڈیل ہونے کا امکان ظاہر کردیا، ساتھ ہی واضح کیا کہ ابتدائی ڈیل پابندیاں ہٹانے، جنگی نقصانات کے معاوضے کے حصول پر بات چیت کیلئے اسپیس پیدا کر سکتی ہے۔
ایرانی عہدیدار نے کہا کہ اگر ایران کے مطالبات تسلیم ہوتے ہیں تو ایران دنیا کو اپنے جوہری کام کی پرامن نوعیت کا یقین دلانے کیلئے تیار ہے تاہم آبنائے ہرمز کھولنا امریکا، ایران جنگ بندی کی شرائط پر عملدرآمد سے مشروط ہے۔
یاد رہے کہ ایران نے لبنان میں جنگ بندی کے بعد آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:شکریہ پاکستان، شکریہ وزیراعظم، شکریہ فیلڈمارشل، امریکی صدرٹرمپ کا پیغام
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ لبنان میں جنگ بندی کے تناظر میں آبنائے ہرمز سے تمام تجارتی بحری جہازوں کی آمد و رفت جنگ بندی کی باقی مدت کے لیے مکمل طور پر کھول رہے ہیں۔
دوسری جانب ایرانی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ فوجی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنےکی اجازت نہیں۔
یہ بھی پڑھیں:ایران کا جنگ بندی کے دنوں میں آبنائے ہرمز کھلا رکھنے کااعلان
ایران کے نیول حکام کا کہنا ہے کہ ڈونلڈٹرمپ نے ایران کی نہیں اپنے دوستوں کی ناکہ بندی کی ہے،نیول جہازوں کے گزرنے پر سخت پابندی ہے۔
ایرانی نیول کمانڈر کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ کی کوئی نہیں سنتا،پاسداران انقلاب کی جانب سے طے راستے پر ہی جہاز سفر کریں گے۔




