مظفر آباد ( کشمیر ڈیجیٹل )آزاد کشمیر حکومت پر سوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارمز پر گاڑ یوں کے حوالے سے آئے روز تنقید کی جاتی ہے کہ حکومت آزاد کشمیر سرکاری گاڑیوں کا غیر قانونی استعمال کررہی ہے ،اس حوالے سے آزاد کشمیر ہائیکورٹ کی طرف سے 2023 میں حکومت سے گاڑیوں کی لسٹ مانگی گئی تھی لیکن انوار سرکار نے اب تک وہ لسٹ عدالت کو فراہم نہیں کی ۔
معروف تجزیہ کارعبدالمنان سیف اللہ نے کشمیر ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ حال ہی میں 17گاڑیوں کی نیلامی ہوئی جن میں سے 5 کے کاغذات ہی نہیں ہیں ،انہیں کون خریدے گا؟ایک گاڑی کا چیسز نمبر ہی نہیں حیرت ہے بغیر کسٹم پیڈ بغیر کاغذات گاڑیاں کون خریدے گا اور یہاں کہاں چلیں گی؟پانچ گاڑیاں ایسی ہیں جن کےکاغذات نہیں تو بیچ کس کو رہےہیں ۔
عبدالمنان سیف اللہ کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر حکومت کے پاس 3482 گاڑیاں موجود ہیں جنکی مینٹیننس پر اربوں روپے کے اخراجات آرہے ہیں۔
وزیروں کے پاس 100 سے زائدگاڑیاں موجود ہیں ،ہوم ڈیپارٹمنٹ کے پاس7،صدارتی سیکرٹریٹ 28،اطلاعات کے پاس 49،محکمہ زکوۃ کے پاس132گاڑیاں موجود ہیں ، اسی طرح محکمہ صحت کے پاس 472،محکمہ قانون کے پاس 111گاڑیاں،لوکل گورنمنٹ کے پاس 220،پولیس کے پاس 753 گاڑیاں موجود ہیں ۔
عبدالمنان سیف اللہ کا کہناتھا کہ وزیروں کی فوج ظفر موج بھرتی کر دی گئی ہے جن کے لئے 100 سے زائد گاڑیاں ہیں جن کا غیر قانونی استعمال کیا جاتا ہے ،عوام کے پیسے کو پانی کی طرح بہایا جاتا ہے اور دعوے کئے جاتے ہیں کہ حکومت بچت کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے عہدے کا حلف اٹھاتے ہی اعلان کیا تھا کہ وہ چھوٹی گاڑیاں استعمال کرینگے تاہم ایسا نہیں ہوا سرکاری گاڑیوں کا بے دریغ استعمال کیا جاتا ہے اور لاکھوں کروڑوں کا فیول ضائع کیا جاتاہے ۔
یہ بھی پڑھیں ۔راولا کوٹ،لاکھوں مالیت کی چوری شدہ گاڑیاں،موٹر سائیکل بر آمد،10ملزمان گرفتار
جس سیاحتی مقام پر چلے جائیں وہاں پر آزاد کشمیر حکومت کی سرکاری گاڑی نظر آئے گی جبکہ گاڑیاں بھی چھوٹے بچے چلا رہے ہوتے ہیں جن کے پاس لائسنس بھی نہیں ہوتے لیکن جب قانون بنانے والے ہی قانون کی خلاف ورزی کریں تو بہتری کیسے آسکتی ہے ، عبدالمنان سیف اللہ کا کہنا تھا کہ سرکاری گاڑیوں کا بے دریغ استعمال ایسا کسی اور ملک میں سوچنا بھی محال ہے لیکن ہماری ایک چھوٹی سی ریاست ہے جہاں پر یہ سب کچھ ہورہاہے ،عدالتی احکامات پر بھی عمل نہیں کیا جارہا ہے ، عدالت کی طرف سےگاڑیوں کی لسٹ مانگی گئی لیکن فراہم نہیں کی گئی۔انہوں نے کہا کہ ایک طرف تو حکومت ملازمین کی تنخواہیں روک لیتی ہے کہ پیسے نہیں ہیں لیکن حیران کن طور پر گاڑیوں کے غیر قانونی اور بے جا استعمال کے لئے فیول کے پیسے بھی آجاتے ہیں ساراکچھ ہوجاتا ہے ۔
اسلام آباد اور راولپنڈی کی اکثر سڑکوں پر آزاد کشمیر حکومت کی گاڑیاں گھومتی ہوئی نظر آئیں گی ،عوام کا پیسہ اس طرح بے دریغ کیوں ضائع کیا جارہا ہے ؟حکومت کا کام عوام کے مفادات کا تحفظ کرنا ہوتا ہے لیکن یہاں حکومت ہی غیر قانونی کام خود کررہی ہے وزیر مشیر سب موج کررہے ہیں ۔
قانونی طور پر آپ ایک افسر کو ایک گاڑی سے زیادہ الاٹ نہیں کرسکتے ،چیف سیکرٹری کے گھر دیکھیں کتنی گاڑیاں ہیں ، سونے پر سہاگہ گاڑیاں ہونے کے باوجود حکومت نئی گاڑیاں خرید رہی ہے
انہوں نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک میں گاڑیوں کے غیر قانونی استعمال کا سوچا بھی نہیں جاسکتا لیکن یہاں پر الٹی گنگا بہہ رہی ہے ۔
یہ بھی پڑھیں ۔مظفر آباد انتظامیہ جاگ گئی، بدوں فٹنس سرٹیفکیٹ چلنے والی گاڑیاں، رکشے ضبط کرنے کا فیصلہ
عبدالمنان سیف اللہ کا حکومت کوتجویز دیتے ہوئے کہنا تھا کہ گاڑیوں کا غیر قانونی استعمال روکنے کیلئے جی پی ایس لگائیں ،لاگ بک بنائیں کہ کتنا فیول کہاں اور کس مقصد کیلئے خرچ ہوا؟کوئی ایسی اپپلی کیشن بنانی چاہیے جس سے گاڑیوں کا غیر قانونی استعمال روکا جاسکے۔
شکایات کا سیل بنانا چاہیے تاکہ عوام ایسی کو خلاف ورزی دیکھیں تو شکایت کرسکیں ،میڈیا پر آگاہی مہم چلائی جانی چاہیے
گاڑیوں کے غیر قانونی استعمال کو روکنے کے لئے سخت قانون سازی کرنے کی ضرور ت ہے ،سزا جزا کا نظام نافذ ہوگا تو ہی ریاست ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکے گی۔




