ٹرمپ

ایران جوہری معاہدے سے پیچھے ہٹ رہا ہے، ٹرمپ کے بڑے دعوے سامنے آ گئے

امریکی صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ پر بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والے طویل مذاکرات کے باوجود سب سے اہم مسئلہ، یعنی ایران کے جوہری پروگرام پر کوئی حتمی اتفاق نہ ہو سکا، جس کے باعث پیشرفت رک گئی ۔

انہوں نے کہا کہ مجموعی طور پر مذاکرات مثبت رہے اور کئی نکات پر دونوں فریقین کے درمیان اتفاق بھی ہوا، تاہم جوہری معاملے پر اختلاف بنیادی رکاوٹ ثابت ہوا ۔

صدر ٹرمپ کے مطابق امریکہ فوری طور پر آبنائے ہرمز میں داخل اور وہاں سے نکلنے والے تمام جہازوں کی نگرانی اور روک تھام کا عمل شروع کرے گا ۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکی بحریہ، جسے انہوں نے دنیا کی بہترین بحری قوت قرار دیا، ان تمام جہازوں کے خلاف کارروائی کرے گی جو اس راستے سے گزرتے ہیں ۔

انہوں نے مزید کہا کہ مستقبل میں ایسا نظام ممکن ہے جس کے تحت تمام جہاز آزادانہ آمد و رفت کر سکیں، تاہم ان کے بقول ایران نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ سمندر میں بارودی سرنگیں موجود ہو سکتی ہیں، جس سے صورتحال غیر یقینی ہو گئی ہے ۔

ٹرمپ نے ایران پر الزام عائد کیا کہ وہ اس کشیدہ صورتحال کو عالمی دباؤ اور مالی فائدے کے لیے استعمال کر رہا ہے، جسے انہوں نے’’عالمی بھتہ خوری‘‘ قرار دیا۔ ان کے مطابق امریکہ اور اس کے اتحادی ایسے دباؤ کو قبول نہیں کریں گے ۔

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے بحریہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ بین الاقوامی پانیوں میں ان جہازوں کو روکے جو ایران کے ساتھ مالی لین دین میں شامل ہوں اور ایسے جہازوں کو کسی صورت محفوظ راستہ فراہم نہیں کیا جائے گا۔

مزید یہ بھی پڑھیں:پاکستان کی پذیرائی، ٹرمپ کا اسرائیل کو لبنان پر حملے بند کرنے کا حکم

انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکی افواج آبنائے ہرمز میں ممکنہ طور پر نصب بارودی سرنگوں کو ناکارہ بنانے کی کارروائی شروع کریں گی، اور اگر ایران کی جانب سے کوئی حملہ ہوا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا ۔

صدر ٹرمپ کے مطابق ایران اس صورتحال کے حل کا راستہ جانتا ہے، لیکن اس کی موجودہ پالیسیوں سے خود اسے نقصان پہنچ رہا ہے ۔

انہوں نے بتایا کہ انہیں مذاکرات کی مکمل بریفنگ نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نے دی ۔

انہوں نے پاکستان کی قیادت، خصوصاً فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایک بڑے ممکنہ تصادم کو روکنے میں اہم کردار ادا کیا ۔

ٹرمپ نے کہا کہ یہ مذاکرات تقریباً بیس گھنٹے جاری رہے اور صبح کے وقت شروع ہوئے تھے۔ ان کے مطابق اگرچہ کئی معاملات پر پیش رفت ہوئی، لیکن ایران کی جانب سے جوہری پروگرام سے دستبردار نہ ہونا سب سے بڑا اختلافی نکتہ رہا ۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی اور ایرانی نمائندوں کے درمیان رابطے خوشگوار رہے، تاہم بنیادی معاملے پر دونوں کا مؤقف سخت رہا ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:پاکستان کی سفارتی کوششیں کامیاب، ٹرمپ نے جنگ بندی میں 2ہفتے کی توسیع کردی

آخر میں انہوں نے واضح کیا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور امریکہ اس مؤقف پر بدستور قائم ہے ۔

Scroll to Top