عالمی تنازعات میں پاکستان کا بطور سہولت کار پائیدار اسٹریٹجک کردار،ڈاکٹر راجہ زاہد خان کا تجزیہ

دفاعی اور اسٹریٹجک تجزیہ کار ڈاکٹر راجہ زاہد خان کے مطابق پاکستان کی سفارتی تاریخ کو اکثر جنگوں، بحرانوں اور ڈیٹرنس کے تناظر میں بیان کیا جاتا ہے۔ تاہم، ایک مساوی طور پر اہم اور تزویراتی طور پر پائیدار پہلو پاکستان کا امن پیدا کرنے والی ریاست کے طور پر کردار ہے، جو دنیا کے خطرناک ترین مقابلوں کے دوران بار بار تحمل، ثالثی اور استحکام کی قوت کے طور پر سامنے آیا ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں حالیہ سفارتی پہل کوئی الگ واقعہ نہیں، بلکہ یہ ایک طویل اسٹریٹجک روایت کا تسلسل ہے جس میں پاکستان نے معتبر دفاعی تیاری کو بالغ سفارت کاری کے ساتھ جوڑا ہے۔

سرد جنگ کے دور سے لے کر آج تک، پاکستان نے اپنی جغرافیائی اہمیت، عسکری ساکھ اور سفارتی رسائی کو تنازعات کو تباہ کن جنگوں میں بدلنے سے روکنے کے لیے استعمال کیا ہے۔ اس نظریے کی جڑیں سرد جنگ کے دور سے ملتی ہیں جب پاکستان نے سیٹو (1954) اور سینٹو (1955) کے ذریعے مغربی اتحاد کا حصہ ہونے کے باوجود 1963 کے سرحدی معاہدے کے بعد چین کے ساتھ تزویراتی اعتماد قائم کیا۔ اسی منفرد پوزیشن کی بدولت اسلام آباد نے 1971 میں امریکہ اور چین کے درمیان تعلقات کی بحالی میں تاریخی کردار ادا کیا، جب صدر یحییٰ خان کی حکومت نے ہنری کسنجر کے خفیہ دورہ بیجنگ کو ممکن بنایا۔

یہ بھی پڑھیں: تل ابیب میں ہزاروں افراد سڑکوں پر، ترکیہ نے نیتن یاہو کو ’وارنٹ یافتہ مجرم‘ قرار دے دیا

پاکستان نے 1965 کی جنگ کے بعد تاشقند اعلامیہ اور 1971 کے واقعات کے بعد شملہ معاہدے کے ذریعے امن کا انتخاب کیا، جس سے یہ اصول واضح ہوا کہ گہرے تنازعات کے حل کے لیے منظم مذاکرات ضروری ہیں۔ یہی فلسفہ 1999 کے لاہور اعلامیہ میں مزید پختہ ہوا۔ سرد جنگ کے آخری مرحلے میں پاکستان نے جنیوا معاہدے (1988) کے ذریعے سوویت یونین کے افغانستان سے انخلا میں مدد دی اور بعد ازاں خطے میں سیکیورٹی ویکیوم کو روکنے پر توجہ مرکوز رکھی۔

نائن الیون کے بعد پاکستان اسلامی دنیا اور مغرب کے درمیان ایک پل بن کر ابھرا۔ دوحہ امن عمل (2018-2020) کی حمایت اور افغان عبوری دور میں سہولت کاری اس مستقل نظریے کی عکاسی کرتی ہے کہ شناخت یا مذہب پر مبنی بحرانوں کا حل صرف سیاسی شمولیت سے ممکن ہے۔ امریکہ اور چین کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی میں بھی پاکستان نے متوازن رویہ اپنایا ہے اور سی پیک کے ذریعے چین سے معاشی تعاون کے ساتھ ساتھ مغربی اداروں کے ساتھ بھی فعال روابط برقرار رکھے ہیں۔

مشرق وسطیٰ میں بھی پاکستان نے اصولی تحمل کا مظاہرہ کیا۔ یمن بحران، قطر اور خلیجی ممالک کے تنازع اور ایران امریکہ کشیدگی میں اسلام آباد نے فرقہ وارانہ الجھنوں سے بچتے ہوئے ہمیشہ ڈی ایسکلیشن اور خود مختاری کی وکالت کی۔ جنوبی ایشیا میں بھارت کے بڑھتے ہوئے جارحانہ رویے کے جواب میں بھی پاکستان نے عالمی قوانین اور اسٹریٹجک تحمل پر زور دیا، جس کا نتیجہ 2021 کا سیز فائر معاہدہ ہے۔

مزید پڑھیں: آبنائے ہرمز اور جوہری پروگرام پر ڈیڈ لاک: ایرانی وزارتِ خارجہ نے مذاکرات کی ناکامی کی وجوہات بتا دیں

موجودہ دور میں فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی قیادت نے عسکری تیاری کو سفارتی پختگی کے ساتھ مربوط کر دیا ہے۔ ان کی قیادت میں عسکری سفارت کاری نے افغانستان، ایران اور خلیجی سیکیورٹی کے حوالے سے بیک چینل رابطوں اور تزویراتی رابطوں کے ذریعے کشیدگی کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کا نظریہ یہ ہے کہ امن طاقت کی عدم موجودگی نہیں بلکہ معتبر طاقت کے تحمل کے ساتھ استعمال کا ثمر ہے۔ پاکستان کا یہ سفارتی سفر ظاہر کرتا ہے کہ امن بذریعہ تیاری، ڈیٹرنس بذریعہ ساکھ اور استحکام بذریعہ مذاکرات ہی اصل فلسفہ ہے۔

(نوٹ: یہ تحریر دفاعی اور اسٹریٹجک تجزیہ کار ڈاکٹر راجہ زاہد خان کے مقالے پر مبنی ہے، جس میں پیش کردہ تمام خیالات اور اسٹریٹجک نتائج مصنف کے اپنے ہیں)

Scroll to Top