اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی حکومت کے خلاف عوامی غم و غصہ شدت اختیار کر گیا ہے۔ تل ابیب میں نکالی گئی ایک بڑی احتجاجی ریلی میں ہزاروں مظاہرین نے حکومت سے فوری طور پر تمام جنگیں روکنے اور نسل کشی بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر ’جنگ روکو‘ اور ’انسانیت کا قتل عام بند کرو‘ کے نعرے درج تھے۔
دوسری جانب، سابق اسرائیلی نائب چیف آف اسٹاف یائیر گولان نے نیتن یاہو حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم شدید دباؤ کا شکار ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ جنگ کے مقاصد حاصل نہیں ہو سکے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ فاتح کو اپنی جیت کا اعلان بار بار دہرانے کی ضرورت نہیں پڑتی، نیتن یاہو اور ان کی حکومت کو اب گھر چلے جانا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز اور جوہری پروگرام پر ڈیڈ لاک: ایرانی وزارتِ خارجہ نے مذاکرات کی ناکامی کی وجوہات بتا دیں
تمام داخلی و خارجی دباؤ کے باوجود نیتن یاہو نے اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ وہ ایران اور اس کے اتحادیوں کے خلاف لڑائی جاری رکھیں گے۔ انہوں نے ترک صدر رجب طیب اردوان پر ایران کو سہولت فراہم کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔
اسرائیلی وزیراعظم کے بیان پر ترکیہ کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ ترک صدارتی دفتر کے کمیونیکیشن امور کے سربراہ برہا نیتن دوران نے نیتن یاہو کو ’گرفتاری کے وارنٹ یافتہ مجرم‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی سیاسی بقا کے لیے خطے کو تصادم کی آگ میں دھکیل رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ نیتن یاہو غزہ میں نسل کشی کے ذمہ دار ہیں اور وہ دوسروں کو درس دینے کی اخلاقی اور قانونی حیثیت کھو چکے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ عالمی برادری نیتن یاہو کو انسانیت کے خلاف جرائم کا ذمہ دار ٹھہرائے گی۔
واضح رہے کہ نیتن یاہو اس وقت اپنی زندگی کے مشکل ترین دور سے گزر رہے ہیں۔ ایک طرف بین الاقوامی عدالتِ انصاف اور عالمی برادری کی جانب سے جنگی جرائم کے الزامات ہیں، تو دوسری طرف خود اسرائیل کے اندر سے ان کی جنگی پالیسیوں کے خلاف آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ سابق فوجی حکام کا ان کے خلاف بیان دینا ظاہر کرتا ہے کہ اسرائیل کی اسٹریٹجک قیادت میں دراڑیں پڑ چکی ہیں۔ ترکیہ کے ساتھ حالیہ لفظی جنگ اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ خطے کی بڑی طاقتیں اب نیتن یاہو کو امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتی ہیں۔




