آبنائے ہرمز اور جوہری پروگرام پر ڈیڈ لاک: ایرانی وزارتِ خارجہ نے مذاکرات کی ناکامی کی وجوہات بتا دیں

امریکا اور اسرائیل کے ساتھ ایران کی جنگ بندی کے لیے ہونے والے مذاکرات ختم ہونے سے پہلے ہی یہ واضح تھا کہ دونوں کے درمیان پہاڑ جیسی رکاوٹیں موجود ہیں۔

اسلام آباد میں ہونے والے ان اہم مذاکرات کے بعد ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بتایا کہ بہت سے موضوعات پر ’مفاہمت‘ ہو گئی تھی، تاہم دو یا تین اہم معاملات پر دونوں فریقوں میں اتفاق رائے نہ ہو سکا، جس کے باعث مذاکرات کسی حتمی معاہدے تک نہیں پہنچ سکے۔

اسماعیل بقائی کے مطابق یہ گزشتہ ایک سال کے دوران ہونے والے مذاکرات کا طویل ترین دور تھا، جو مجموعی طور پر 24 سے 25 گھنٹے تک جاری رہا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ مذاکرات 40 دن کی مسلط کردہ جنگ کے بعد بداعتمادی اور شک و شبہات کے ماحول میں ہوئے، اس لیے شروع سے ہی ایک نشست میں کسی حتمی معاہدے کی توقع نہیں تھی۔ اس بار ایجنڈے میں آبنائے ہرمز سمیت چند نئے موضوعات بھی شامل کیے گئے تھے، جن کی اپنی پیچیدگیاں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان خطے میں پائیدار امن اور خوشحالی کے لیے اپنا سہولت کاری کا کردار مستقبل میں بھی جاری رکھے گا، اسحاق ڈار

فریقین کے درمیان سب سے بڑا اور پرانا اختلاف ایران کے جوہری پروگرام کا ہے، جو اس بار بھی مذاکرات کی راہ میں بڑی رکاوٹ ثابت ہوا۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اسلام آباد سے روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 21 گھنٹے تک بند دروازوں کے پیچھے ہونے والے مذاکرات کی تمام تفصیلات تو ظاہر نہیں کی جا سکتیں، تاہم امریکا کی پوزیشن واضح ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’سادہ سی بات یہ ہے کہ ہم ایران سے یقین دہانی چاہتے ہیں کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں بنائیں گے اور نہ ہی وہ جوہری صلاحیت حاصل کرنے کے لیے درکار آلات حاصل کریں گے۔‘

جے ڈی وینس کا مزید کہنا تھا کہ امریکی صدر کا بنیادی مقصد یہی ہے اور انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کے پاس موجود یورینیم افزودہ کرنے کی صلاحیت پہلے ہی تباہ کی جا چکی ہے۔ تاہم امریکا کو ابھی تک ایران میں یہ آمادگی نظر نہیں آئی کہ وہ مستقبل میں کبھی بھی جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا۔ دوسری جانب ایران کا موقف ہے کہ وہ جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کا دستخط کنندہ ہے، اس لیے اسے شہری مقاصد کے لیے یورینیم افزودہ کرنے کا مکمل قانونی حق حاصل ہے۔

مزید پڑھیں: اسلام آباد مذاکرات کا باضابطہ آغاز: وزیراعظم شہباز شریف اور امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے درمیان تاریخی ملاقات

اسماعیل بقائی نے پاکستان کی حکومت اور عوام کا شکریہ ادا کیا، خاص طور پر وزیراعظم شہباز شریف، آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا مذاکرات کی میزبانی پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران اور پاکستان کے درمیان رابطے جاری رہیں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ سفارت کاری قومی مفادات کے تحفظ کا ذریعہ ہے اور ایرانی سفارتی عملہ ہر حال میں عوام کے حقوق کے تحفظ کا پابند ہے۔

Scroll to Top