آزاد کشمیر کے ضلع جہلم ویلی میں محکمہ تعلیم کے اعلیٰ انتظامی عہدے پر تبادلہ و تقرری کا معاملہ حکومت سے حل نہ ہو سکا، جس کے بعد یہ تنازع اب عدالتِ عظمیٰ تک پہنچ گیا ہے۔ اس قانونی لڑائی کی وجہ سے تعلیمی حلقوں میں انتظامی تبدیلیوں کے حوالے سے بے یقینی کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق، محترمہ صائمہ نظیر عباسی بطور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (نسواں) خدمات انجام دے رہی تھیں، جن کا تبادلہ بطور ڈپٹی ڈائریکٹر نظامتِ تعلیم کر دیا گیا تھا۔ ان کی جگہ محترمہ کوثر شفیع کو ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (نسواں) تعینات کیا گیا۔ صائمہ نظیر عباسی نے اس فیصلے کو متعلقہ فورم پر چیلنج کیا، جس پر عدالت نے عارضی حکمِ امتناع جاری کر دیا اور وہ اپنے عہدے پر کام کرتی رہیں۔
یہ بھی پڑھیں: وزیرصحت ،سیکرٹری اور ڈی جی کیخلاف توہین عدالت کی درخواست دائر
مورخہ 07 اپریل 2026 کو عدالت نے عبوری حکم ختم کرتے ہوئے فیصلہ محترمہ کوثر شفیع کے حق میں سنا دیا۔ اس عدالتی فیصلے کی روشنی میں محترمہ کوثر شفیع نے 08 اپریل 2026 کو سیکرٹری تعلیم کے روبرو اپنی جوائننگ رپورٹ پیش کی اور باضابطہ طور پر ڈی ای او (نسواں) جہلم ویلی کا چارج سنبھال لیا۔ تاہم، اس کے فوراً بعد محترمہ صائمہ نظیر عباسی نے 09 اپریل 2026 کو عدالتِ عظمیٰ سے رجوع کر کے “اسٹیٹس کو” کا حکم حاصل کر لیا۔
عدالتِ عظمیٰ کے حکم کے مطابق فریقین کو اسی پوزیشن پر برقرار رہنا ہے جس پر وہ حکم جاری ہونے کے وقت موجود تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ چونکہ اسٹیٹس کو کے اجرا کے وقت محترمہ کوثر شفیع باقاعدہ چارج سنبھال کر عملی طور پر ذمہ داریاں ادا کر رہی تھیں، اس لیے موجودہ عدالتی حکم کے تحت وہ بدستور اس عہدے پر برقرار رہیں گی۔ فی الحال ضلع جہلم ویلی میں محکمہ تعلیم کا انتظامی تسلسل برقرار ہے اور کیس کی آئندہ سماعت پر مزید پیش رفت متوقع ہے۔




