اسپین

پاکستانیوں کے لیے اسپین میں قانونی رہائش کا موقع،نئی پالیسی آ گئی

اہم یورپین ملک اسپین کی جانب سے اوورسیز اور امیگریشن سے متعلق نئی پالیسی کو حالیہ دنوں میں مختلف انداز میں پیش کیا جا رہا تھا، جس پر حکام نے وضاحت جاری کرتے ہوئے اصل صورتحال بیان کر دی ہے ۔ اس وضاحت کے مطابق یہ پالیسی عام معافی نہیں بلکہ مخصوص شرائط کے تحت محدود دائرے میں لاگو ہوگی ۔

بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کا کہنا ہے کہ اسپین کا یہ فیصلہ صرف اُن غیر قانونی تارکینِ وطن کے لیے ہے جو 31 دسمبر 2025 سے پہلے ملک میں داخل ہو چکے تھے ۔

اس تاریخ کے بعد آنے والے افراد اس سہولت سے فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے۔ حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد پہلے سے موجود افراد کو قانونی نظام میں شامل کرنا ہے نہ کہ نئی غیر قانونی ہجرت کی حوصلہ افزائی کرنا ۔

درخواست دہندگان کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ یہ ثابت کریں کہ ان کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ موجود نہیں ہے ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:اسپین: 5 لاکھ غیر ملکی تارکین وطن کو قانونی حیثیت دینے کا فیصلہ

اس کے ساتھ یہ بھی لازمی ہے کہ وہ 2025 کے اختتام سے قبل اسپین میں داخل ہوئے ہوں اور کم از کم چند ماہ، تقریباً پانچ ماہ یا اس سے زائد عرصہ وہاں مقیم رہے ہوں۔ ان شرائط کی تکمیل کے بغیر درخواست منظور نہیں کی جائے گی ۔

وہ افراد بھی اس پروگرام کے تحت اہل قرار دیے جا سکتے ہیں جنہوں نے 31 دسمبر 2025 سے پہلے اسپین میں پناہ (اسائلم) کی درخواست جمع کروا رکھی ہو۔ اس طرح ایسے کیسز کو بھی قانونی دائرے میں لانے کی کوشش کی جا رہی ہے جو پہلے سے زیرِ غور ہیں ۔

حکام کے مطابق کامیاب درخواست گزاروں کو ایک سال کے لیے رہائشی اجازت نامہ دیے جانے کا امکان ہے، جس کی بعد میں تجدید بھی ممکن ہو سکتی ہے ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:آن لائن محبت کافراڈ اورقرض تنازع3جانیں لے گیا، پاکستانی شہری کو اسپین میں 36سال قید

اس پالیسی کا بنیادی مقصد غیر قانونی تارکینِ وطن کو باقاعدہ معاشی اور سماجی نظام کا حصہ بنانا ہے تاکہ وہ قانونی طور پر کام کر سکیں اور معاشرے میں بہتر انداز میں ضم ہو سکیں ۔

Scroll to Top